ہر سال پاور سیکٹر میں گردشی قرضے کا بہاؤ صفر پر برقرار رکھا جائے‘ حکومت سے گردشی قرضے کے خاتمے کیلئے نظرثانی شدہ سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان طلب
گرڈ کیپٹو پاور پلانٹس پر گرڈ ٹرانزیشن لیوی نافذ کرنے کا فیصلہ ‘ یکم جنوری 2026 سے یہ لیوی 15 فیصد‘اگست میں20فیصد کر دی جائے گی
اسلام آباد ( آن لائن) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان پر بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ ختم کرنے کے لیے سخت شرائط عائد کر دی ہیں اور 2031 تک گردشی قرضے کا مکمل خاتمہ یقینی بنانے کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے ہر سال پاور سیکٹر میں گردشی قرضے کا بہاؤ (فلو) صفر پر برقرار رکھا جائے۔ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف نے حکومت سے گردشی قرضے کے ذخیرے (اسٹاک) کے خاتمے کے لیے نظرثانی شدہ سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان طلب کر لیا ہے، جس پر عمل درآمد ضروری قرار دیا گیا ہے۔ادھر آف گرڈ کیپٹو پاور پلانٹس پر گرڈ ٹرانزیشن لیوی نافذ کرنے کا فیصلہ بھی سامنے آ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، یکم جنوری 2026 سے یہ لیوی 15 فیصد کر دی جائے گی، جبکہ اگست 2026 سے اسے مزید بڑھا کر 20 فیصد کر دیا جائے گا۔ رواں مالی سال میں کیپٹو پاور پلانٹس سے 105 ارب روپے کی وصولیوں کا ہدف رکھا گیا ہے۔دوسری جانب، حالیہ سیلاب کے باعث ملک کو تقریباً 370 ارب روپے کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ابتدائی تخمینے کے مطابق انفراسٹرکچر اور زرعی شعبہ شدید متاثر ہوئے ہیں، جس کے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے لیے شرحِ نمو (جی ڈی پی گروتھ ریٹ) کا ہدف کم کر کے 4.2 فیصد سے 3.9 فیصد کر دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان کو رواں مالی سال کے دوران 26 ارب ڈالر کی بیرونی مالی معاونت درکار ہوگی، جس میں سے 12 ارب ڈالر کی رقم رول اوور کی جائے گی۔