پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر ضروریات کیلئے کافی ہیں‘، مقامی خام تیل کی پیداوار یومیہ 60 سے 70 ہزار بیرل ہے، بلوچستان میں گیس سلیب کا معاملہ مل کر دیکھا جائے گا، علی پرویز
2035 تک بجلی کی پیداوار میں صاف توانائی کا حصہ 90 فیصد تک لے جانے کیلئے روڈ میپ تیار نہیں کیا گیا، ایران سے بجلی کی مد میں 12 ملین ڈالر واجب الادا ہیں:اویس لغاری
اسلام آباد ( آن لائن) وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سینیٹ کو بتایا ہے پیٹرولیم مصنوعات پر آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق 80 روپے فی لیٹر لیوی عائد ہے، جبکہ ملک کی مقامی خام تیل کی پیداوار ملکی ضروریات کے مقابلے میں محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ریفائنریز کی مجموعی ریفائننگ صلاحیت تقریباً چار لاکھ بیرل ہے، تاہم ان میں سے بیشتر پرانی ہونے کے باعث پیٹرول کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔جمعرات کو سینیٹ کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران ضمنی سوالات کے جوابات دیتے ہوئے وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ پاکستان میں مقامی طور پر بھی خام تیل پیدا کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگی صورتِ حال کے دوران حکومت کی کوشش رہی ہے کہ خام تیل درآمد کرکے اس سے ڈیزل تیار کیا جائے۔دریں اثناء قومی اسمبلی میں وزیر توانائی اویس لغاری کے تحریری جواب کے مطابق ملک کے بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 30 جون 2026 تک بڑھ کر 1675 ارب روپے ہو گیا، جبکہ مالی سال 2025-26 کے دوران بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں 1711 ارب روپے ادا کیے گئے۔ 2035 تک بجلی کی پیداوار میں صاف توانائی کا حصہ 90 فیصد تک لے جانے کے ہدف کے حصول کے لیے الگ روڈ میپ تیار نہیں کیا گیا