میرا نہیں خیال گرین لاک ڈاﺅن زیادہ موثر ہوگا(جسٹس شاہد کریم )

گرین لاک ڈاﺅن سے آلودگی ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقل ہو جائے گی‘موٹرسائیکل رکشاﺅں سے متعلق پالیسی بنائی جائے
سموگ کے پیش نظر ہفتے میں دو روز ورک فرام ہوم، دو روزسکول بند کرنے اور اتوار کے روز تمام کمرشل سرگرمیاں بند رکھنے کی جانب جانا ہوگا:ریمارکس

لاہور (کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ نے سموگ کے پیش نظر ہفتے میں دو روز ورک فرام ہوم، دو روزسکول بند کرنے اور اتوار کے روز تمام کمرشل سرگرمیاں بند رکھنے کا عندیہ دے دیا،جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دئیے گزشتہ برس بھی ہم نے اس پالیسی پر عمل کیا تھا، ماحولیاتی کمیشن میٹنگ کر کے فیصلہ کریں۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ کے تدراک کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ دوران سماعت مختلف محکموں نے رپورٹس جمع کرائیں۔جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دئیے لاہور کے گردونواح میں دھواں چھوڑنے والی ہیوی گاڑیوں پر کریک ڈاﺅن کیا جائے، ٹرمینل پر کھڑی بسوں کو چیک کیا جائے اور موٹر وے پولیس بھی گاڑیوں کی فٹنس چیک کرے۔ جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس میں کہا کہ چنگ چی رکشوں سے متعلق پالیسی بنانے کی بھی ضرورت ہے، موٹر سائیکلیں بھی آلودگی پھیلانے میں بہت بڑا کردار ادا کر رہی ہیں، حکومت نے سپر سیڈ پر سبسڈی دی ہے، پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی سبسڈی کی ضرورت ہے۔عدالت نے گرین لاک ڈاﺅن پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا اور ریمارکس دیئے کہ گرین لاک ڈاﺅن سے ایک علاقے کی آلودگی دوسرے علاقے میں منتقل ہو جائے گی، یہ شاید زیادہ موثر نہ ہو۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ گزشتہ برس ہم نے ہفتے میں دو روز ورک فراہم ہوم، جمعہ ہفتہ سکولز کی بندش اور مارکیٹس کے اوقات کار تبدیل کیے تھے جبکہ اتوار کو کمرشل سرگرمیاں مکمل بند کیں تھیں، ہمیں دوبارہ ایسے اقدامات کی طرف جانا ہوگا، ماحولیاتی کمیشن میٹنگ کر کے فیصلہ کریں۔