لاہور (آئی این پی ) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت 5 دسمبر تک کسی بھی قسم کے نظر بندی کے احکامات جاری کرنے سے روک دیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی نظر بندیوں کے احکامات کی قانونی حیثیت کے خلاف درخواست پر محفوظ فیصلہ جاری کر دیا۔ فیصلے میں بتایا گیا کہ سرکاری وکیل کے مطابق سال2022 سے لیکر اب تک حکومت نے نظر بندی کے 20 ہزار احکامات جاری کیے، 2023 میں 4 ہزار 470 نظر بندی کے احکامات جاری کیے گئے۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ حکومت نظر بندی کے احکامات کو سیاسی بنیادوں پر استعمال کرتی ہے، آئین کے آرٹیکل دس اے کے تحت نظر بندیوں کے قانون میں تبدیلی ہونی چاہیے۔ عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے پنجاب حکومت کو 5 دسمبر تک کسی بھی قسم کے نظر بندی کے احکامات جاری کرنے سے روک دیا اور آئندہ سماعت پر وکلا کو نظر بندی کے سیکشن 3 کی قانونی حیثیت پر دلائل دینے کی ہدایت کردی۔