اسلام آباد (آئی این پی)جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے ،افغانستان کیساتھ تعلقات بہتر کرنا ہوں گے، غلط پالیسیوں سے سرحد پر ٹینشن پیدا ہوئی، کشمیر کے مسئلے سے پہلے ہمیں افغانستان کا سوچنا ہوگا، افغانستان کے ساتھ ہم نے اپنے تعلقات بہتر کیوں نہیں کیے ، بھارت، چین، بنگلا دیش، انڈونیشیا، ملائیشیا، افغانستان، ایران کی اکانومی بہتر اور پاکستان کی نیچے جا رہی ہے، ہم نے اب اپنی تحریک کو آگے بڑھانا ہے، ہمارے مدارس محض تعلیم گاہیں نہیں نظریاتی، فکری ادارے ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا مایوس نہیں ہونا، ہمارے حکمران پہلے بھی انگریز کے وفادار تھے، وفاداریوں کے نتیجے میں ان کو مراعات ملیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں 20 سال جنگ رہی، جس طرح طالبان اسی طرح حماس کو دہشت گرد قرار دیا گیا، دنیا حماس کی حمایت کے لیے ہچکچا رہی تھی، ہم نے حماس کو دہشت گرد کہنے کے بجائے مجاہد کہا۔انہوں نے کہا جب تک سیاسی قیادت ساتھ نہیں ہوگی سفارتی کامیابی ممکن نہیں۔ملکی دفاع کیلئے سب مجاہد بن گئے ہیں، اگر بھارت کے ساتھ معاملہ ہوگا تو پوری قوم ایک ہوگی، ہم اپنے معاملات کو سلجھانے کی بجائے الجھا رہے ہیں ۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بھارت، چین، بنگلا دیش، انڈونیشیا، ملائیشیا، افغانستان، ایران کی اکانومی بہتر اور پاکستان کی نیچے جا رہی ہے، اسٹیبلشمنٹ تسلیم کرے آپ کے پیچھے طاقت ور سیاسی قوت نہیں ، انہوں نے کہا کہ اگر بھارت کے ساتھ مسئلہ ہوگا تو قوم ایک ہوگی۔