سندھ ہائیکورٹ کا شادی کے جھوٹے وعدے پر زیادتی، ملزم کی سزا کیخلاف اپیل مسترد

سندھ ہائیکورٹ کا شادی کے جھوٹے وعدے پر زیادتی، ملزم کی سزا کیخلاف اپیل مسترد

سندھ ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں شادی کا جھانسہ دے کر خاتون سے زیادتی کے مقدمے میں ملزم عبداللہ کی سزا کے خلاف دائر اپیل مسترد کر دی ہے۔

عدالت نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ شادی کے وعدے کے ذریعے حاصل کی گئی رضامندی قانونی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔ جسٹس اقبال کلہوڑو نے دوران سماعت اپنے ریمارکس میں کہا کہ شادی کے جھوٹے وعدے کے ذریعے کسی فرد سے رضامندی لینا جسمانی اور ذہنی دباؤ پیدا کرنے کے مترادف ہے، جو کہ فریب اور دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں کسی کی رضامندی کو قانونی تصور نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ فریب اور دھوکہ دہی پر مبنی ہوتی ہے، جو کہ قانوناً قابل قبول نہیں ہے۔ 
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ شادی کے وعدے کے ذریعے کسی فرد کو قائل کرنا ذہنی دباؤ اور فریب کے زمرے میں آتا ہے، اور غیر فطری عمل کے معاملے میں رضامندی کا جواز تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ یاد رہے کہ ٹرائل کورٹ نے ملزم عبداللہ کو 10 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ اس مقدمے کو تھانہ چاکیواڑہ میں درج کیا گیا تھا، جہاں الزام تھا کہ ملزم نے خاتون سے شادی کا جھانسہ دے کر زیادتی کی۔ ہائی کورٹ نے اس فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اپیل کو مسترد کر دیا ہے۔