مئی میں مہنگائی 11.7 فیصد رہی، ٹرانسپورٹ کرائے 37 فیصد بڑھ گئے،ایل پی جی 4.95روپے کلومہنگی

 گیس پر بھی لیوی ،مہنگائی بم تیار
 گیس سیکٹر کا 3400 ارب روپے کا گردشی قرضہ ختم کرنے کیلئے نئی لیوی عائد کرنے کی تجویز، بجلی، گیس،ایندھن17فیصد مہنگے ہوئے کھانے پینے کی اشیا سالانہ بنیاد پر 8 فیصد مہنگی ہوئیں ،ایل پی جی گھریلو سلنڈر کی نئی قیمت 3 ہزار 643 روپے 41 پیسے مقرر 
اسلام آباد (بیورو رپورٹ ، مانیٹرنگ ڈیسک ) مہنگائی کا ایک اور بم تیار ہو گیا ،حکومت کا پٹرول اور ڈیزل کے بعد گیس پر بھی لیوی ٹیکس لگانے کی تیاری کی جا رہی ،ملک کے توانائی سیکٹر کے گردشی قرضے میں تشویش ناک اضافہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق بجلی اور گیس کا مجموعی گردشی قرضہ 5100 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جو گزشتہ برس تین ہزار 500ارب روپے تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے حال ہی میں آئی ایم ایف کو گیس کے شعبے کا گردشی قرضہ ختم کرنے کا پلان پیش کیا جس میں نئی لیوی عائد کرنے کی تجویز دی گئی۔ آئی ایم ایف نے گیس گردشی قرضے کو توانائی شعبے پر بڑا دباؤ قرار دیتے ہوئے اس کے حل کے لیے مؤثر اقدامات پر زور دیا۔حکومت کی جانب سے گیس پر 5 روپے لیوی عائد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جبکہ سرکاری کمپنیوں کے ڈیویڈنڈ کے ذریعے گیس گردشی قرض کم کرنے کا پلان بھی آئی ایم ایف کے سامنے رکھا گیا۔ مئی 2026 میں مہنگائی کی شرح 11.7 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ اپریل 2026 میں یہ شرح 10.9 فیصد اور مئی 2025 میں 3.5 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ماہ شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح 11.7 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 11.5 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ نان فوڈ، نان انرجی عمومی مہنگائی 9.8 فیصد رہی۔ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں ٹرانسپورٹ کرائے 37 فیصد تک بڑھ گئے، جبکہ ہاؤسنگ، واٹر، بجلی، گیس اور ایندھن 17 فیصد تک مہنگے ہوئے۔اعداد و شمار کے مطابق کھانے پینے کی اشیا سالانہ بنیاد پر 8 فیصد مہنگی ہوئیں، جبکہ ایک سال میں تعلیم 8.37 فیصد اور صحت کی سہولیات 7.54 فیصد مہنگی ہو گئیں۔ادارہ شماریات کے مطابق ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں کے کرائے سالانہ بنیاد پر 5.69 فیصد،کپڑوں اور جوتوں کے نرخ 8.77 فیصد تک بڑھ گئے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ گندم کا آٹا 11.21 فیصد تک مہنگا ہوا جبکہ گندم کی قیمت 7.78 فیصد تک بڑھ گئی۔ آلو، بیکری آئٹمز، گوشت اور خشک دودھ بھی مہنگی ہونے والی اشیا میں شامل رہیں۔اعداد و شمار کے مطابق دودھ، کوکنگ آئل اور گھی بھی مہنگی ہونے والی اشیا میں شامل ہیں جبکہ گزشتہ ماہ جوتے 29 فیصد اور پوسٹل سروسز 9 فیصد تک مہنگی ہوئیں۔ادارہ شماریات کے مطابق موٹر فیول ایک ماہ میں 7.62 فیصد تک مہنگا ہوا، جبکہ ٹرانسپورٹ سروسز 3.70 فیصد اور مزدور کی اجرت 3.64 فیصد بڑھ گئی۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)نے ایل پی جی کی قیمت میں 4 روپے 95 پیسے فی کلو اضافہ کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق جون کے لیے ہوگا۔ اوگرا کے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 11.8 کلوگرام کے گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 58 روپے 51 پیسے اضافہ کیا گیا ہے۔ ایل پی جی کی نئی قیمت 308 روپے 76 پیسے فی کلو مقرر کی گئی ہے، جبکہ 11.8 کلوگرام کے گھریلو سلنڈر کی نئی قیمت 3 ہزار 643 روپے 41 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ اوگرا کا کہنا ہے کہ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جون سے ہوگا۔