سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
یہاں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آخرٹرمپ ایران معاہدہ کوابراہیمی معاہدات کیساتھ کیوں جوڑناچاہتے ہیں؟یہ دراصل ایک بڑی تصویرکاحصہ ہے جس میں مشرقِ وسطیٰ کوایک نئے سیاسی نظام میں ڈھالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہ تصوربظاہرپرکشش مگرعملی طورپرپیچیدہ ہے۔ٹرمپ ان معاہدات کووسعت دیکراسے اپنی خارجہ پالیسی کی کامیابی کے طورپر پیش کرناچاہتے ہیں۔یہ ان کیلئے ایک تاریخی ورثہ بنانے کی کوشش بھی ہے،جسے وہ اپنی صدارت کی پہچان بناناچاہتے ہیں۔
امریکی سینیٹرلنزے گراہم کایہ کہناکہ مسلم ممالک کے پاس’’ناکامی کاکوئی آپشن نہیں‘‘،دراصل ایک ایساتصورہے جوزمینی حقائق سے زیادہ خواہشات پرمبنی ہے۔دراصل ایک ایسی متکبرانہ سوچ کی عکاسی کرتاہے جوعالمی سیاست کومحض طاقت کے زاویے سے دیکھتی ہے مگرتاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف دباؤسے نہیں بلکہ بلکہ اپنے اصولوں کے مطابق فیصلے کرتی ہیں اوران کے پیچھے ایک اجتماعی شعوراوراحساسِ غیرت بھی ہوتاہے۔امن محض معاہدوں سے نہیں بلکہ انصاف سے قائم ہوتاہے۔یہ بیان زیادہ ترایک خواہش معلوم ہوتاہے، حقیقت نہیں۔پاکستان کاماضی اس بات کاگواہ ہے کہ اس نے کئی مواقع پرامریکاسے اختلاف کیاہے۔اس لیے یہ کہناغلط نہ ہوگاکہ پاکستان انکارکر سکتاہے،مگراس کے ساتھ سفارتی دباؤ اور معاشی چیلنجزبھی آئیں گے جس کاسامنا ماضی میں پاکستان کئی بارکرچکاہے۔یہ فیصلہ ایک تلوارکی دھارپرچلنے کے مترادف ہوگااوردانشمندی تویہ ہے کہ اس کیلئے ابھی سے کمرکس لینے کی ضرورت ہے۔
پاکستان،سعودی عرب اوردیگرمسلم ممالک میں عوامی رائے اس معاملے میں نہایت اہم ہے۔پاکستان اوردیگرمسلم ممالک میں عوامی رائے اس معاملے میں نہایت حساس ہے اور عوام کی اکثریت اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے خلاف ہے۔بعض حدتک ہاں،سعودی عرب کا فیصلہ خطے میں ایک رہنماحیثیت رکھتاہے۔اگرریاض اپنامؤقف بدلتاہے تواسلام آبادپربھی دبابڑھے گا،مگرحتمی فیصلہ پھر بھی پاکستان کے داخلی حالات اورعوامی رائے پرمنحصرہوگا۔تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی بھی حکومت اگراسرائیل کوتسلیم کرنے کی طرف قدم
بڑھاتی ہے تواسے شدیدعوامی ردعمل کاسامناکرناپڑسکتاہے۔یہ وہ طاقت ہے جواگرچہ خاموش ہوتی ہے،مگرجب بیدارہوتی ہے تونہ صرف ایوانوں کے فیصلوں کوبدل دیتی ہے بلکہ تخت وتاج ہلادیتی ہے۔
غزہ، لبنان اورشام میں اسرائیلی کارروائیوں نے اس کے خلاف عدم اعتمادکومزیدگہرااوراس کے خلاف شکوک وشبہات کوبڑھادیاہے۔ ایسے میں تعلقات کی بحالی محض سفارتی اعلان سے ممکن نہیں بلکہ ایک مشکل مرحلہ ہے۔اعتمادایک ایسانازک آئینہ ہے جوایک بار ٹوٹ جائے تودوبارہ آسانی سے نہیں جڑتایاجڑنے میں طویل وقت لگتاہے جب تک پلوں کے نیچے سے بہت ساپانی گزرچکاہوتاہے۔اگرچہ مصر،اردن اورترکی،ان ممالک کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات موجودہیں،مگرحالیہ جنگوں کے بعدان تعلقات میں واضح تنااورشدید سردمہری دیکھی جارہی ہے۔یہ تعلقات اب محض رسمی رہ گئے ہیں،جن میں وہ حرارت باقی نہیں رہی جوکبھی سفارت کاری کی جان ہوتی ہے۔
ٹرمپ بزورطاقت دراصل ایک تصورکو دوسرے تصورسے بدلنے کی جارحانہ کوشش کررہے ہیںخطے کونئے نظام میں ڈھالنے اور ایک نئے مشرقِ وسطی کاخواب دیکھ رہے ہیں۔ایک ایساخطہ جہاں ایران کومحدودکردیاجائے اوراسرائیل کومرکزی حیثیت حاصل ہو۔یہ تصوربظاہرپرکشش ہے،مگراس کے عملی نتائج نہایت پیچیدہ اورہولناک ہوسکتے ہیں۔اپنے اس خواب کی تکمیل کیلئے ٹرمپ نے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھرجزوی طورپرایران پرحملہ کیاہے۔یہ ناراضگی دراصل اس بات کی علامت ہے کہ ان کی خواہشات کے مطابق پیش رفت نہیں ہورہی۔ ایران پرحملے کوبعض تجزیہ کارطاقت کے بجائے بے بسی کی علامت بھی قراردیتے ہیںگویاجب دلیل کمزورہوجائے تو طاقت کاسہارالیاجاتاہے۔
سیتھ فرانٹزمین جوموجودہ دورکے ایک معروف امریکی نژاداسرائیل میں مقیم صحافی،سیاسی تجزیہ کار،محقق اورمصنف ہیں،جنہیں خاص طورپرمشرقِ وسطی کی جنگوں،ایران، اسرائیل ، شام،عراق اورعسکری حکمتِ عملی کے تجزیے پرگہری مہارت حاصل ہے۔ان کے مطابق’’نیوابراہیم اکارڈز‘‘ایک غیرحقیقی تصورہے کیونکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ان کے مطابق خطہ اس وقت استحکام کے بجائے مزید کشیدگی کی طرف بڑھ رہاہے،نہ کہ امن کی طرف۔اس لیے ایسے معاہدات کاپھیلاؤمشکل دکھائی دیتاہے کیونکہ اگران میں انصاف کا عنصر شامل نہ ہواتویہ مزیدتنازعات کوجنم دے سکتے ہیں۔امن صرف معاہدوں سے نہیں بلکہ انصاف سے قائم ہوتاہے۔یہ تجزیہ اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ زمینی حقائق اورسیاسی بیانیے میں کتنافرق ہے۔ایران جنگ کے بعدممکن ہے کہ نئے اتحادابھریں۔ ترکی،سعودی عرب اورپاکستان ایک مشترکہ محاذبناسکتے ہیں۔یہ اتحاداگروجودمیں آیاتوعالمی سیاست میں ایک نئی قوت کے طورپر سامنے آسکتاہے۔
کیاامریکاگریٹر اسرائیل کے تصورکو فروغ دے رہاہے؟بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ایساہی لگتاہے۔بعض تجزیہ کاروں کے مطابق امریکاایک ایسے مشرقِ وسطی کی تشکیل چاہتاہے جہاں اسرائیل مرکزی حیثیت رکھتاہویہی"’’گریٹراسرائیل‘‘کاتصورہے۔بعض تجزیہ کاروں کے مطابق امریکااس تصورکوعملی شکل دینے کی کوشش کررہاہے۔یادرہے کہ گریٹر اسرائیل کاتصور ایک ایسا نظریہ ہے جو صرف خطے میں ہی نہیں بلکہ عالمی طورپربے چینی کاسبب بناہواہے۔یہ تصورخطے میں بے چینی کوبڑھاسکتاہے اورنئے تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔
پاکستان کے ساتھ ماضی میں کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزیاںخصوصاسوویت یونین کے خاتمے کے بعدپاکستان کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزیاں اس بات کاثبوت ہیں کہ عالمی سیاست میں مفادات کوترجیح دی جاتی ہے۔گویاعالمی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے، صرف مفادات ہوتے ہیں اور امریکا کی تاریخ یہ گواہ ہے کہ اس نے اپنے مفادات کے حصول کے بعد فووری طورپراپنے محسنوں کی گردن پرچھری چلانے میں لمحہ بھرکیلئے تاخیرنہیں کی۔کیاہم اب بھی اس تاریخ سے سبق حاصل کرنے کوتیار ہیں کہ نہیں۔
امریکاکابھارت کے ساتھ بڑھتاہواتعلق اوراسے اسٹریٹجک پارٹنربناناپاکستان کیلئے ایک بڑاچیلنج ہے۔یہ تبدیلی خطے میں طاقت کے توازن کومتاثرکررہی ہے۔امریکی وزیر خارجہ کایہ کہنا کہ وہ پاکستان کیلئے بھارت کوقربان نہیں کرسکتے،دراصل یہ ایک واضح پیغام ہے کہ امریکاکی ترجیحات بدل چکی ہیں اورخطے میں طاقت کے توازن کی نئی سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔پاکستان کیلئے اس صورتحال میں یہ اہم سبق ہے کہ وہ جذباتی فیصلوں سے گریز ورحکمت سے کام لے۔’’بیگانی شادی میں ناچنے‘‘کی روایت ترک کرکے اپنے مفادات کوترجیح اورمقدم رکھناوقت کی ضرورت ہے اوراپنی خارجہ پالیسی کوحقیقت پسندانہ بنیادوں پراستوار کرکے مستقبل کے محفوظ راستے کاانتخاب کرتے ہوئے عالمی سیاست میں توازن برقرار رکھے کیونکہ تاریخ انہی قوموں کویادرکھتی ہے جواپنے اصولوں پرقائم رہتی ہیں۔
یہ وقت ہے کہ مسلم دنیااپنی صفوں میں اتحادپیداکرے۔یہ سوال کہ مسلم دنیاابراہیمی معاہدات میں شامل ہویانہیں،دراصل ایک بڑے سوال کا حصہ ہے ،کیاہم اصولوں پرقائم رہیں گے یامفادات کے سامنے جھک جائیں گے؟کیایہ فیصلے انصاف پرمبنی ہیں یامحض طاقت کے کھیل کاحصہ؟اگرانصاف کونظراندازکیاگیاتوامن محض ایک سراب رہے گا۔اگراصولوں
کاسوداکیاگیاتووقتی فائدہ توہوسکتاہے،مگرتاریخ کافیصلہ ہمیشہ اصولوں کے حق میں ہوتاہے۔
تاریخ خاموش نہیں رہتی،وہ ہرعمل کاحساب رکھتی ہے۔آج جوفیصلے کیے جارہے ہیں،وہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کاتعین کریں گے۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قومیں صرف طاقت سے نہیں بلکہ اصولوں سے زندہ رہتی ہیں۔اگرمسلم دنیانے اپنے اصولوں کاسوداکر لیا تووہ اپنی شناخت کھودے گی لیکن اگرمسلم دنیانے اتحاد،حکمت اوراصولوں کادامن تھام لیاتووہ اس بحران سے سرخروہوسکتی ہے۔ بصورت دیگر،یہ موقع بھی تاریخ کے اوراق میں ایک کھوئے ہوئے امکان کے طورپردرج ہوجائے گا۔یہ وقت ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں،ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
تاہم یہ تمام سوالات دراصل ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتے ہیں:کیادنیاانصاف پرمبنی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے یامحض طاقت کے کھیل میں الجھ رہی ہے؟اگرمسلم دنیا نے اپنے اصولوں کومضبوطی سے تھام لیاتووہ اس طوفان سے گزرکرایک نئی صبح دیکھ سکتی ہے ورنہ یہ اندھیری رات طویل بھی ہوسکتی ہے اورصبرآزمابھی۔