چین اور امریکا کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی ہے، جہاں چین نے امریکا پر ٹیرف (محصولات) کے حوالے سے معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
چینی وزارت تجارت کا مؤقف:
برطانوی نشریاتی ادارے (BBC) کے مطابق، چین کی وزارت تجارت نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ:امریکا نے کئی بار عالمی تجارتی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے، اور اس کا رویہ معاہدوں کو جان بوجھ کر سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔گزشتہ ماہ جنیوا میں چین اور امریکا کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، جن میں یہ طے پایا تھا کہ دونوں ممالک درآمد کی جانے والی اشیاء پر عائد محصولات (tariffs) میں کمی کریں گے۔تاہم، امریکا نے اس معاہدے پر عمل نہیں کیا، جس سے باہمی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
صدر سطح پر معاہدے کی خلاف ورزی:
وزارت تجارت کے مطابق، چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر جو بائیڈن کے درمیان حالیہ ٹیلی فونک گفتگو میں دونوں فریقین نے ٹیرف میں کمی پر اتفاق کیا تھا۔لیکن امریکی عمل نے اس پیش رفت کو دھچکا پہنچایا اور چین کو مایوس کیا۔
امریکی خلاف ورزیاں (چین کے مطابق):
ترجمان نے امریکی اقدامات کی فہرست بیان کرتے ہوئے کہا:
کمپیوٹر چپ ڈیزائن سافٹ ویئر کی فروخت پر پابندی۔
چینی ٹیک کمپنی ہواوے کے خلاف وارننگز اور دباؤ۔
چینی طلبہ کے اسٹوڈنٹ ویزے منسوخ یا روکنا۔
یہ تمام اقدامات چین کے بقول غیر منصفانہ اور تجارتی اصولوں کے منافی ہیں۔
پس منظر:
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین اور امریکا کے تعلقات مختلف محاذوں پر تناؤ کا شکار ہیں، جن میں:
ٹیکنالوجی کی دوڑ
ہائی ٹیک برآمدات پر پابندیاں
تائیوان اور بحیرہ جنوبی چین کے امور شامل ہیں۔
چین نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ امریکا کی تجارتی پالیسیوں کا نوٹس لے اور عالمی تجارتی تنظیم (WTO) کے قوانین کی پاسداری کی جائے۔