ایران جانِ پاکستان

غلام علی جاوید
 اکتیس صوبوں کی سر زمین ایران دنیا کے اس خطے پر موجود ہے جو مشرق میں دریائے سندھ ، مغرب میں دریائے دجلہ سے گھری ہوئی ہے۔ ایران کی آبادی تقریباً 9کروڑ، رقبہ 1648195مربع کلو میٹر،دارالحکومت تہران، کرنسی ایرانی ریال اور بولے جانے والی زبان فارسی ہے ۔ایران کی بنیاد سائرس اعظم نے550قبل مسیح رکھی تھی۔’’ایران ‘‘نام کی نسبت آریائی خاندان سے ہے جو وسطی ایشیا سے آکر آباد ہوئے تھے۔مغربی دنیا میں ایک طویل عرصے تک ایران کوفارس کہا جاتا رہا مگر1935ء میں رضا شاہ پہلوی نے دنیا کو کہا کہ اس خطے کو فارس کہنے کی بجائے ایران کہا کریں۔ایران براعظم ایشیا میں واقع ہے ا ور محل وقوع کے لحاظ سے مشرق و مغرب کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔اس کی جغرافیائی حیثیت مشرق وسطی اور جنوب مغربی ایشیا میں نہایت اہم حیثیت رکھتی ہے۔ یہ مشرق وسطی کا وہ ملک ہے جو وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور عرب دنیا کے عین سنگم پر واقع ہے۔اس کی سرحدیںعراق، ترکی، پاکستان، افغانستان، ترکمانستان، بحیرہ کیسپین، خلیج عمان اور خلیج فارس سے ملتی ہیں۔ایران کے مشہور شہر شیراز، اصفہان، مشہد، قم، تبریز، کرمان، قزوین ، یزد، گرگان اور ہمدان وغیرہ ہیں۔ایرانی سرزمین کا ایک حصہ مغربی اور شمالی سمت کے بلندو بالا پہاڑوں پر مشتمل ہے جو ایران کی حفاظتی سہولت کاری کا کام سر انجام دیتے ہیں۔دوسرا حصہ صحرائوں پر مشتمل ہے جو گرم و سرد ہوائوں کا مسکن ہے۔ دریائے سیمرہ، اترک اور زایندہ رود کے پانی کی لہریں ایرانی حسن کو دوبالا کرتی ہیں۔یہ ملک تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔اس کی چابہار بندرگاہ علاقائی تجارت میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ایران کو خلیج فارس اور ہرمز آبنائے کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے عالمی بحری تجارتی راستوں پر کنٹرول حاصل ہے۔ہرمز آبنائے دنیا کی اہم آبی گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔یہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان کو آپس میں جوڑتی ہے۔ تقریباً% 20دنیا کے تیل و توانائی کی ترسیل یہاں سے ہوتی ہے۔ اس کی چوڑائی تو 33کلومیٹر کے لگ بھگ ہے لیکن بحری جہازوں کی گزر گاہ صرف 3کلومیٹر پر محیط ہے۔یہ گزرگاہ دنیا کی بڑی طاقتوں یعنی چین ، جاپان، بھارت اورامریکہ کے علاوہ سعودی عرب ،کویت ، بحرین ، قطر اور یو ۔اے۔ ای کے لئے بہت اہم ہے ۔ جس کی بدولت ایران کا گھمنڈ آسمان سے باتیں کرتا ہے یہاں تک کہ موجودہ دنوں میں اسرائیل ایران جنگ کے دوران ، امریکی حملوں کے جواب میں ہرمز آبنائے بند کرنے کی دھمکی بڑا کام کر گئی۔ 
اگرایرانی تہذیب کی بات کی جائے تو یہ دنیا کی قدیم تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے۔ ہزاروں سال تک ایران ثقافت، علم وادب ، فن و فنکاری،فن تعمیر، فلسفہ وسیاست اورجنگی طاقتوں کامرکز رہا۔ایرانی ثقافت میںخطاطی، مٹی کی تختیاں ، چھوٹے مجسمے ، قالین بافی، مینا کاری،رنگین ٹائل ورک،فن مصوری،فنون لطیفہ، شاعری، ادبی روایات، سنگ تراشی، نقش نگاری،محل و مکان، گنبد، مینارومحراب سازی قابل ذکر ہیں۔ایرانی قالین اپنے اعلیٰ معیار،خوبصورتی، نفیس دستکاری کی بدولت دنیا بھر میں شہرت رکھتے ہیں۔ایران دنیا کا سب سے مہنگا مصالحہ زعفران پیدا کرنے والا ملک ہے۔قدرتی عروق اور خوشبوئوں میں ایران کو امتیازی مقام حاصل ہے۔کشمش ، خشک میوہ جات، ایرانی چائے بھی شہرت کی بلندیوں پر ہے۔یہ ملک زیورات اور قیمتی پتھروں میں بھی کشش رکھتا ہے۔ان پتھروں میں سے نیلم ، فیروزہ اور عقیق بہت مشہور ہیں۔
 خشا یارشا، اردشیر بابکان ، نو شیروان ، نادر شاہ افشار، آغا محمد خان، رضا شاہ پہلوی، ابن سینا ، فردوسی، عمر خیام ، سعدی ، صفوی ، قاجار، پہلو ی ،امام غزالی، جامی، امام خمینی اور آیت اللہ خامنہ ای جیسی شخصیات اسی سر زمین سے تعلق رکھتی ہیں ۔زمانہ قدیم میں ایرانی مذہبی لحاظ سے زرتشی تھے مگرایک خدا کے قائل تھے۔ سا تویں صدی عیسوی میں ایران میں اسلام کا سورج طلوع ہوا۔ 
ایران پاکستان دوستی قدیم ہے جو تاریخی ورثے، مذہبی ہم آہنگی، ثقافتی اور جغرافیائی مماثلتی بنیادوں پر قائم ہے۔ قیام پاکستان کے وقت سب سے پہلے ایران نے پاکستان کو تسلیم کیا تھا۔دونوں ملکوں کی زبانوں میںقدرے مطابقت پائی جاتی ہے ۔ادبی انگڑائیوں، شاعرانہ رموز اورصوفیانہ تفکر میںمماثلتی رنگ جھلکتا ہے۔ ایران اسلامی و پڑوسی ملک ہونے کے ناطے پاکستان کا انتہائی قابل اعتماد دوست ہے۔پاک ایران سرحدی اشتراک، یکساں تہذیب ، ثقافت و تاریخی ورثہ اخوت و بھائی چارے کو تقویت دیتاہے۔قیام پاکستان کے بعد پہلے پاکستانی وزیر اعظم لیاقت علی خان نے ایران کا سرکاری دورہ کیا تھا جس کے جواب میں شاہ ایران، رضا شاہ پہلوی نے بھی پاکستانی سر زمین کا رخ کیا۔ جس کی بدولت دونوں ملکوں کے مابین دوستانہ تعلقات کی فضا دونوں قوموں کے مابین رس گھولنے لگی۔رضا شاہ پہلوی وہ پہلاایرانی حکمران تھا جس نے سب سے پہلے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا تھا۔دونوں ممالک علاقائی تعاون تنظیموںای۔ سی۔ او، او۔ آئی ۔ سی، شنگھائی اور ایس۔ سی۔ او وغیرہ کے مشترکہ ممبر ہیں۔ سابق ایرانی صدر محمد خاتمی فرماتے ہیں ’’ایران اور پاکستان دو دل، ایک روح کی مانند ہیں ، جنہیں تاریخ ، ثقافت اور ایمان نے جوڑ رکھا ہے‘‘۔