نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے صارفین کے لیے نئے سال کی پہلی سائبر سیکیورٹی ایڈوائزری جاری کر دی ہے، جس میں آن لائن فراڈ، ہیکنگ اور ڈیجیٹل دھوکہ دہی سے بچاؤ کے لیے اہم احتیاطی تدابیر پر زور دیا گیا ہے۔
ایجنسی نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سائبر سیکیورٹی کا سنہری اصول یاد رکھا جائے: کلک کرنے سے پہلے ضرور سوچیں، کیونکہ ایک لمحے کی غفلت بڑے مالی اور ڈیجیٹل نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔این سی سی آئی اے کے مطابق موجودہ دور میں پڑھے لکھے اور باشعور افراد بھی سائبر جرائم کا آسانی سے شکار ہو رہے ہیں، کیونکہ ہیکرز اب صرف تکنیکی ہتھکنڈے استعمال نہیں کرتے بلکہ لالچ، خوف اور جذبات کو بطور ہتھیار استعمال کر کے لوگوں سے حساس معلومات حاصل کر لیتے ہیں۔ایڈوائزری میں صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ تمام آن لائن اکاؤنٹس کے لیے مضبوط اور منفرد پاسورڈز استعمال کریں اور پاسورڈ میں نام، تاریخِ پیدائش یا سادہ اعداد شامل کرنے سے گریز کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام اکاؤنٹس پر ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن (2FA) فعال کرنے پر زور دیا گیا ہے، جسے ڈیجیٹل سیکیورٹی کے لیے ایک مؤثر حفاظتی اقدام قرار دیا گیا ہے۔
ایجنسی نے واضح طور پر متنبہ کیا ہے کہ کسی بھی نامعلوم لنک پر کلک نہ کیا جائے اور فون کال یا پیغام کے ذریعے کسی کو بھی اپنا ون ٹائم پاسورڈ (او ٹی پی) فراہم نہ کیا جائے۔ ایڈوائزری کے مطابق غیر معمولی انعام یا فائدے کا لالچ دینے والے پیغامات کو فوراً فراڈ تصور کیا جائے۔این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ محتاط رویہ اور بنیادی سیکیورٹی اقدامات ہی سائبر جرائم سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ ہیں۔