نیا سال اور جمہوریت

روہیل اکبر
  نیا سال 2026  پنجاب میں سیاست کا نیا باب کھولنے جارہا ہے اس سال سیاست کی نرسری ایک بار پھر سے آباد ہونے جارہی ہے پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کا بگل بج چکا ہے اور الیکشن کی تیاریاں شروع ہونے جارہی ہیں کیونکہ جمہوریت صرف قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا نام نہیں بلکہ اس کی اصل روح بلدیاتی نظام میں پوشیدہ ہے گلی، محلہ، یونین کونسل اور تحصیل کی سطح پر منتخب نمائندے ہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو عوام کے روزمرہ مسائل سے براہِ راست آگاہ ہوتے ہیں بلدیاتی انتخابات دراصل عوام کو اپنے مسائل کے حل میں شریک کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں مگر بدقسمتی سے پاکستان بالخصوص پنجاب میں اس نظام کو ہمیشہ ثانوی حیثیت دی گئی بلدیاتی نمائندہ وہ شخص ہوتا ہے جس کے دروازے تک شہری بغیر پروٹوکول پہنچ سکتا ہے گٹر بند ہو، گلی ٹوٹی ہو، پینے کے پانی کا مسئلہ ہو یا محلے کا اسکول اور ڈسپنسری—یہ تمام مسائل وہ ہیں جو کسی ایم این اے یا ایم پی اے کے ایجنڈے میں شاید شامل نہ ہوں، مگر بلدیاتی اداروں کے لیے یہی اولین ترجیح ہوتے ہیں اسی لیے دنیا بھر میں مضبوط جمہوریتوں کی بنیاد ایک فعال اور بااختیار بلدیاتی نظام پر رکھی جاتی ہے پنجاب میں گزشتہ کئی برسوں سے بلدیاتی انتخابات نہ ہونا ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے صوبہ پنجاب جسکے رہائشی اس وقت 13کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے اور آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے جسے مدتوں سے مقامی حکومتوں کے بغیر چلایا جا رہا ہے بیوروکریسی کے ذریعے نظام تو چل رہا ہے مگر عوامی نمائندگی کے بغیر یہ نظام بے روح نظر آتا ہے نتیجتاً عوام کے چھوٹے مگر اہم مسائل فائلوں میں دب کر رہ جاتے ہیں اب یہ امر خوش آئند ہے کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کا آغاز ہو چکا ہے  الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیاں، ووٹر فہرستوں کی نظرِ ثانی اور انتخابی فریم ورک پر کام اس بات کا اشارہ ہے کہ جمہوریت کی نچلی سطح کو فعال کرنے کی سنجیدہ کوشش کی جا رہی ہے حکومت پنجاب نے بھی بلدیاتی نظام کے نئے ماڈل پر مشاورت مکمل کرلی ہے جس کا مقصد اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ہے تاہم اصل امتحان محض تیاریوں کا نہیں بلکہ نیت کا ہے  ماضی میں بلدیاتی انتخابات کو بارہا سیاسی مصلحتوں کی نذر کیا گیا کبھی قانون سازی کے نام پر تاخیر، کبھی حلقہ بندیوں کا بہانہ اور کبھی فنڈز کی کمی یہ سب عوام پہلے بھی دیکھ چکے ہیں  اگر اس بار بھی بلدیاتی انتخابات کو طول دیا گیا تو یہ جمہوری عمل کے ساتھ ایک اور مذاق ہوگا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات بروقت، شفاف اور غیر جانبدارانہ انداز میں منعقد کیے جائیں اورمنتخب بلدیاتی نمائندوں کو مالی اور انتظامی اختیارات دیے جائیںتاکہ یہ نظام کامیاب ہوسکے اگر میئر، چیئرمین اور کونسلرز کو بااختیار نہ بنایا گیا تو بلدیاتی نظام محض ایک نمائشی ڈھانچہ بن کر رہ جائے گااس لیے ملک میں جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے بلدیاتی انتخابات جوجمہوریت کی نرسریاں ہیں کو آباد کیا جائے کیونکہ یہی نظام قیادت کو نچلی سطح سے ابھرنے کا موقع دیتا ہے اور عوام کو اپنے مسائل کے حل میں شریک کرتا ہے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی بروقت تکمیل نہ صرف جمہوری تقاضا ہے بلکہ عوامی اعتماد کی بحالی کا بھی واحد راستہ ہے مسلم لیگ ن کی حکومت محترمہ مریم نواز شریف کی قیادت میں نئے سال میں بلدیاتی انتخابات کروا کرثابت کریگی گی کہ واقعی عوامی خدمت اس حکومت کا مشن ہے اس وقت صوبہ پنجاب  10 ڈویژنز، 41 اضلاع اور 156 تحصیلوں پر مشتمل ہے سب سے زیادہ 24  تحصیلیں راولپنڈی ڈویژن  میں شامل ہیں راولپنڈی ڈویژن 6 اضلاع راولپنڈی، مری ،چکوال ،اٹک ،جہلم، تلہ گنگ کی 24 تحصیلوں پر مشتمل ہے،22 تحصیلیں لاہور ڈویژن میں ہیں لاہور ڈویژن کے 4 اضلاع، لاہور، قصور ،شیخوپورہ، ننکانہ صاحب کی 22 تحصیلیں ہیں۔ گوجرانوالہ ڈویژن کے 3 اضلاع گوجرانوالہ ،سیالکوٹ، نارووال کی 11 تحصیلیں ہیں ،گجرات ڈویژن کے 4 اضلاع گجرات ،حافظ آباد، منڈی بہاالدین، وزیر آباد کی 12 تحصیلیں ہیں  ۔ ملتان ڈویژن 4 اضلاع ملتان، لودھراں، وہاڑی، خانیوال کی 14 تحصیلوں پر مشتمل ہے ، ساہیوال ڈویژن 3 اضلاع ساہیوال، پاکپتن ،اوکاڑہ کی 7 تحصیلوں پر مشتمل ہے۔ بہاولپور ڈویژن 3 اضلاع بہاولپور ،بہاولنگر، رحیم یار خان کی 15 تحصیلوں پر مشتمل ہے۔ ڈیرہ غازی خان ڈویژن 6 اضلاع ڈیرہ غازی خان، تونسہ ،راجن پور، لیہ ،مظفرگڑھ، کوٹ ادو کی 16 تحصیلوں پر مشتمل ہے۔فیصل آباد ڈویژن 4 اضلاع فیصل آباد ،جھنگ ،چنیوٹ ،ٹوبہ ٹیک سنگھ کی 17 تحصیلوں پر مشتمل ہے  سرگودھا ڈویژن 4 اضلاع سرگودھا ،خوشاب، میانوالی، بھکر کی 18 تحصیلوں پر مشتمل ہے ڈویژن ڈسٹرکٹ ،تحصیلوں  اور یونین کونسلز کی حدود بندی  جنوری فروری تک ہو جائیگی ضلع کوٹ ادو اور تحصیل چوک سرور شہید بھی نئے نوٹیفکیشن میں شامل ہو چکے ہیں اگر 2026میں بلدیاتی الیکشن ہو جاتے ہیں تو ملک میں اصل جمہوریت کا اغاز ہو جائیگا یہ جمہوریت کے وہ پرائمری سکول ہے جہاں ایک سیاسی کارکن جمہوریت کی الف بے سے واقف ہو تا ہے اور پھر وہ اپنی عوامی خدمت کی بدولت ایم پی اے ،ایم این اے اور وزیر تک بن جاتے ہیں بلدیاتی نظام حکومت میں میئر ،ناظم یا ضلعی چیئرمین ایک وزیر سے زیادہ پاور فل ہوتا ہے اور ہر وقت عوام کی پہنچ میں رہتا ہے اسکے دفتر میں عوام کا آنا جانا بغیر کسی پروٹوکول اور پرچی کے میسر ہوتا ہے اور تو اور میں اسی نظام کے تحت کونسلروں کو گلی کا گٹر خود صاف کرتے بھی دیکھا اس نظام حکومت کے فعال ہونے سے عوام کے عام اور چھوٹے چھوٹے مسائل بغیر کسی مشکل کے آسانی سے حل ہو جائیں گیاس لیے اب یہ وزیراعلی محترمہ مریم نواز شریف کا اختیار ہے کہ وہ اختیارات کو گلی اور محلے تک منتقل کروانے میں  بیوروکریسی کے روایتی ہربوں کو ناکام بناکرنہ صرف پنجاب بلکہ جمہوریت کو بھی مضبوط کردیں۔(تحریر۔روہیل اکبر00923004821200)