وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) اسلام آباد زون نے دو اہم کارروائیوں میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جن میں سے ایک ملزم لیبیا کشتی حادثے میں ملوث پایا گیا۔
اظہر اقبال کی گرفتاری: ایف آئی اے نے اظہر اقبال کو عثمان پورہ، گجرات سے گرفتار کیا۔ اظہر اقبال نے سادہ لوح شہریوں کو غیر قانونی طور پر یورپ بھجوانے کا جھانسہ دیا اور لاکھوں روپے بٹورے۔ ایف آئی اے کے مطابق، اظہر اقبال نے ایک شہری کو لیبیا کے راستے یورپ بھجوانے کے لیے بڑی رقم وصول کی تھی، تاہم اس کشتی حادثے میں شہری کی موت واقع ہو گئی۔ اظہر اقبال کا اس غیر قانونی اسمگلنگ نیٹ ورک میں ملوث ہونے کے سبب ایف آئی اے نے کارروائی کی۔
محمد افضال کی گرفتاری: دوسری کارروائی میں ایف آئی اے نے محمد افضال کو راولپنڈی کے محلہ امر پورہ سے گرفتار کیا۔ محمد افضال گزشتہ چھ سال سے ایف آئی اے کے لیے مطلوب تھا۔ وہ معصوم شہریوں کو جعلی ویزے فراہم کرتا تھا، جن میں یورپی ممالک، دبئی اور کینیڈا شامل تھے۔ ایف آئی اے نے بتایا کہ ملزم نے لاہور میں بھی انسانی اسمگلنگ کا منظم نیٹ ورک چلایا تھا، اور اس نے ویزا فراڈ کے ذریعے مختلف شہروں میں آپریشن کیا۔
ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق، ملزمان کے خلاف اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد میں 2019ء میں مقدمہ درج ہوا تھا، اور ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ یہ ملزمان ایک بڑا غیر قانونی نیٹ ورک چلا رہے تھے۔ ایف آئی اے نے دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
یہ کارروائیاں انسانی اسمگلنگ کے خلاف ایف آئی اے کے عزم کی علامت ہیں، جو ایسے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرتی ہے تاکہ انسانوں کی غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام کی جا سکے۔