پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ایک دلچسپ اور تناؤ بھرا واقعہ پیش آیا جب رکن پنجاب اسمبلی خالد نثار ڈوگر نے صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری پر تنقید کرتے ہوئے انہیں “جھوٹی” قرار دے دیا۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب خالد نثار ڈوگر نے ایوان میں کہا کہ لاہور میں ماں اور بیٹی کے کھلے مین ہول میں گرنے کے واقعے کی رپورٹ کو عظمیٰ بخاری نے جھوٹا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ “یہ عظمیٰ بخاری نہیں بلکہ عظمیٰ جھوٹی ہیں، انہیں ایوان میں آ کر معافی مانگنی چاہیے۔”اس پر چیئر پرسن شوکت راجہ نے فوری طور پر مداخلت کی اور خالد نثار کو مزید بات کرنے سے روکتے ہوئے کہا کہ وزیر اطلاعات قابل احترام ہیں اور آپ کے الفاظ کو ایوان کی کارروائی سے حذف کیا جاتا ہے۔
اس کے جواب میں پارلیمانی سیکریٹری خالد رانجھا نے کہا کہ عظمیٰ بخاری نے میڈیا پر آ کر نہ صرف لواحقین بلکہ پوری قوم سے معافی مانگی، اور یہ ایک اخلاقی جرأت ہے جو ہر کسی میں نہیں ہوتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اخلاقی جرأت کے مظاہرے کو تنقید کا نشانہ بنانا غلط ہے۔اس طرح ایوان میں دونوں جماعتوں کے ارکان کے درمیان تناؤ اور احتجاج کے باوجود معاملے کو ایوان کے ضابطے کے مطابق کنٹرول کیا گیا۔