330 بچے دل اور 60 بچے فالج سے متاثر ہو کر ہسپتالوں میں داخل رہے ۔دھواں چھوڑتی گاڑیاں سموگ کی سب سے بڑی وجہ
لاہور( کرائم رپورٹر) محکمہ صحت نے سموگ سے پھیلنے والی بیماریوں کی رپورٹ جاری کر دی جبکہ 70 فیصد پاکستانیوں نے دھواں چھوڑتی گاڑیوں کو سموگ کی سب سے اہم وجہ قرار دے دیا۔محکمہ صحت کے گزشتہ برس کی نسبت اس سال سموگ کی بیماریوں میں کمی آئی ، پنجاب میں نومبر میں پھیپھڑوں کے 19 لاکھ 14 ہزار 480 کیس رپورٹ ہوئے جبکہ دمہ سے 1 لاکھ 29 ہزار 544 افراد متاثر ہوئے۔صوبے میں دل کے 61 ہزار سے زائد اور فالج کے 6 ہزار 266 مریض سامنے آئے ۔نومبر میں 58 ہزار 274 پھیپھڑے، دمہ کے 13 ہزار 958 بچے متاثر ہوئے جبکہ 330 بچے دل اور 60 بچے فالج سے متاثر ہو کر ہسپتال میں داخل رہے۔دریں اثنا ایک سروے کے دوران 70 فیصد پاکستانیوں نے دھواں چھوڑتی گاڑیوں کو سموگ کی سب سے وجہ قرار دے دیا۔ 63 فیصد نے صنعتی آلودگی ،37 فیصد نے کچرا جلانے، 31 فیصد نے اینٹوں کے بھٹوں، 30 فیصد نے فصلوں کی باقیات جلانے جبکہ 11 فیصد افراد نے تعمیراتی کام کو سموگ کا ذمہ دار کہا۔سموگ کو قابو کرنے میں ناکامی کے سوال پر 44 فیصد نے عوام کے عدم تعاون کو بنیادی وجہ قرار دیا۔37 فیصد نے قانون کے نفاذ میں کوتاہی، 16 فیصد نے فضائی معیار سے متعلق قوانین کی عدم موجودگی، 8 فیصد نے فنڈز کی کمی جبکہ 8 فیصد افراد نے اداروں کی محدود صلاحیت کو سموگ کے خاتمے میں ناکامی کی اہم وجہ کہا۔