لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما قمر زمان کائرہ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے لہجے، الفاظ اور مکالمے پر شدید تنقید کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر سندھ سے اسی انداز میں جواب ملا تو صورتحال بگڑ سکتی ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ن لیگ اور ان کے ساتھی تنقید ضرور کریں، لیکن وہ الفاظ استعمال نہ کریں جو ماضی میں کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو بڑے تحمل سے صورتحال کو آگے لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں، اور پی پی پی نے نیک نیتی سے حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت جو چاہے کرے۔قمر زمان کائرہ نے مزید کہا کہ حکومت کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی تمام شقوں پر عمل نہیں ہوا، اور پی پی پی نے ہر موقع پر حکومت کو سپورٹ کیا، کوئی احسان نہیں کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی پی پی حکومت سے پاور شیئرنگ نہیں کر رہی، بلکہ اسے سپورٹ کر رہی ہے۔انہوں نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں انتظامیہ کے رویے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ بلاول بھٹو نے وزیراعلیٰ پنجاب کا نام لے کر کام کی تعریف کی، لیکن کچھ معاملات میں پی پی پی کی تجاویز کو غیر مناسب قرار دیا گیا۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ بی آئی ایس پی پروگرام دنیا میں غربت کی روک تھام کے حوالے سے نمبر ون ہے، اور اگر تجاویز دی جائیں تو اس کو پنجاب پر حملہ قرار دینا درست نہیں۔
پی پی پی رہنما نے کہا کہ اختلافات رہیں، لیکن حد میں رہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ صرف سی ایم پنجاب نہیں، بلکہ نواز شریف کی بیٹی اور شہباز شریف کی بھتیجی ہیں، اور ان کے منہ سے نکلنے والے الفاظ ن لیگ کا موقف ظاہر کرتے ہیں۔ قمر زمان کائرہ نے خبردار کیا کہ حکومت کریں لیکن دوسروں کے حقوق کو ختم نہ کریں، اور ان کے لہجے پر غور کریں۔یہ پریس کانفرنس اس وقت سامنے آئی جب پنجاب اور سندھ کے درمیان سیاسی تناؤ اور اختلافات بڑھ رہے ہیں، اور قمر زمان کائرہ نے اپنے موقف سے واضح کیا کہ پی پی پی نیک نیتی سے حکومت کو سپورٹ کر رہی ہے مگر کسی بھی غیر مناسب رویے یا لہجے کو نظرانداز نہیں کرے گی۔