سروے ٹیموں کے نقصانات کے تخمینے کے دوران عوامی شکایات کو ترجیح دی جائے
سیلاب سے 13 لاکھ ہیکٹر رقبہ زیر آب، 9 لاکھ 30 ہزار ہیکٹر زرعی زمین تھی
بڑھتی قیمتوں کے باعث کسان بیج کو بطور اناج فروخت کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں
اسلام آباد ،نیویارک (آئی این پی )اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) نے خبردار کیا ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں حالیہ سیلاب کے باعث ربیع کی فصل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ایف اے او نے خبردار کیا ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں سیلابی نقصانات آنے والی ربیع کی فصل کو متاثر کریں گے، جب کہ پنجاب کی صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے سروے ٹیموں کو ہدایت دی ہے کہ نقصانات کے تخمینے کے دوران عوامی شکایات کو ترجیح دی جائے۔اپنی ابتدائی تخمینہ جاتی رپورٹ میں ایف اے او نے خبردار کیا کہ ربیع 26-2025 اور خریف 2026 مغلئغ بیج کی دستیابی خطرے میں ہے۔سیلاب سے 13 لاکھ ہیکٹر رقبہ زیر آب آ گیا، جن میں سے 9 لاکھ 30 ہزار ہیکٹر زرعی زمین تھی، جب کہ پنجاب سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ایف اے او کے مطابق گندم کے بیج کا نصف حصہ بچائے گئے اناج سے حاصل ہوتا ہے، جس کا بڑا حصہ زیر آب آنے والے گھروں میں ضائع ہوگیا۔فارمل سیکٹر میں گندم کے بیج کی 80 سے 90 فیصد دستیابی موجود ہے، لیکن مارکیٹ کے دبا سے یہ سپلائی متاثر ہو سکتی ہے ، بڑھتی ہوئی مانگ اور قیمتوں کے باعث کسان بیج کو بطور اناج فروخت کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں، جس سے صوبوں میں دستیابی مزید کم ہوجائے گی۔رپورٹ کے مطابق سیلاب نے چارے کی سپلائی کو بھی متاثر کیا، جس کے نتیجے میں لاگت میں اضافہ اور دور دراز علاقوں تک رسائی محدود ہوگئی، کئی مالکان مجبوری کے تحت مویشی فروخت کر رہے ہیں