نیشنل فوڈ سکیورٹی ڈویژن میں ساڑھے 7ارب کی مالی بے ضابطگیاں

پبلک اکائونٹس کمیٹی کا آڈٹ رپورٹ پرشدید تحفظات کا اظہار ، 30جون تک ریکوری مکمل کرنے کی ہدایت ،عملدرآمد رپورٹ طلب کرلی 
  اسلام آباد (خصوصی رپورٹ )پبلک اکائونٹس کمیٹی میں نیشنل فوڈ سکیورٹی ڈویژن میں ساڑھے 7ارب کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے ،کمیٹی نے 30جون تک ریکوری مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے عمل درآمد رپورٹ طلب کر لی ۔پی اے سی کا اجلاس جنید اکبر خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں نیشنل فوڈ سکیورٹی ڈویژن کی مالی سال 2023-24کی آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔آڈٹ رپورٹ میں ساڑھے سات ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی، جس پر کمیٹی نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ آڈٹ حکام کے مطابق سینٹرل کاٹن کمیٹی نے 195ملز مالکان سے کاٹن سیس کی مد میں 3ارب 44کروڑ روپے کی ریکوری کرنی ہے۔سیکرٹری فوڈ سکیورٹی نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اس معاملے پر ایپٹما اور پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں کو شامل کیا گیا ہے اور ملز مالکان کو ریکوری کے نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ ملز مالکان نے واجبات کی ادائیگی کے لیے معاہدے کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی نے 30جون تک ریکوری مکمل کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے عمل درآمد رپورٹ طلب کر لی ہے۔سیکرٹریوں کی وقت بے وقت تبدیلی کے معاملے پر پبلک اکائونٹس کمیٹی نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں سیکرٹریوں کی وقت بے وقت تبدیلی پر اعتراض کیا گیا۔رکن پی اے سی حسین طارق نے کہا کہ فوڈ سکیورٹی ڈویژن کے گذشتہ چند ماہ کے دوران 4سے پانچ سیکرٹری تبدیل ہو چکے ہیں، اگر ہر دو ماہ بعد سیکرٹری تبدیل ہوگا تو کام کیا کرے گا۔حسین طارق نے کہا کہ کشمیر افیئرز کے سیکرٹری کو فوڈ سکیورٹی میں لگائیں گے تو اسے معاملات سمجھنے میں 6ماہ تو لگیں گے اور جب سیکرٹری معاملات کو سمجھتا ہے تو اسے تبدیل کر دیا جاتا ہے۔شازیہ مری نے کہا کہ پی اے سی سے ہدایات جانی چاہیے کہ حکومت سیکرٹریوں کو اتنی جلدی تبدیل نہ کرے۔