نئی دہلی (نیٹ نیوز) بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع امیٹھی میں ایک مریض کے آپریشن کے دوران مبینہ طور پر نشے میں ہونے والے ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مریض کی موت کے بعد اہل خانہ نے رات ایک بجے ہسپتال کے باہر احتجاج شروع کیا جو کئی گھنٹوں تک جاری رہا جس کے بعد تحقیقات کا حکم دے دیا گیا۔این ڈی ٹی وی کے مطابق شوراج کمار مشرا کا کہنا ہے کہ ان کے دادا شیو رام مشرا کو سینے میں تکلیف کے باعث شام ساڑھے چار بجے سنجے گاندھی ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ انہیں ایمرجنسی وارڈ میں لے جایا گیا جہاں ڈاکٹر سنجے دویویدی نے کچھ ٹیسٹ کرانے کو کہا۔ شوراج مشرا کا کہنا ہے کہ "ٹیسٹ کے بعد ہمیں بتایا گیا کہ رگوں میں کچھ مسئلہ ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر دویویدی، ڈاکٹر ستییندر تیواری اور ڈاکٹر اپوروا مشرا دادا کو آپریشن تھیٹر لے گئے۔ وہاں مناسب انتظامات نہیں تھے، لوگ آکسیجن سلنڈر اور دستانے بھاگ بھاگ کر لا رہے تھے۔ ڈاکٹر سنجے دویویدی مکمل طور پر نشے میں تھے۔"مریض کی موت کے بعد اہل خانہ کے احتجاج پر ڈاکٹر سنجے دویویدی ہسپتال سے فرار ہو گئے۔ شیورام مشرا کے بیٹے کی جانب سے شکایت درج کرائی گئی، جس کے بعد منشی گنج پولیس نے تین ڈاکٹروں کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی، جبکہ ان کے ایک اور ساتھی ڈاکٹر پرشانت دویویدی پر بھی لاپرواہی برتنے کا الزام لگایا گیا ہے۔