پنجاب اسمبلی،4قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین فارغ

 چیئر مین لٹریسی عنصر اقبال،سپیشل ایجوکیشن صائمہ کنول، کالونیز محمد احسن ،پروفیشنل ڈیویلپمنٹ رائے مرتضیٰ کے خلاف عدم اعتماد کامیاب 
لاہور( کرائم رپورٹر)بجٹ اجلاس کے دوران سپیکر پنجاب اسمبلی کے 26ارکان معطل کرنے کے بعد حکومتی ارکان نے بھی میدان میں آنے کا فیصلہ کر لیا۔اپوزیشن ارکان سے تمام 13 کمیٹیوں کی چیئرمین شپ واپس لینے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا۔ 13میں سے چار کی چیئرمین شپ اپوزیشن لے لی گئی جبکہ بقیہ کا فیصلہ آئندہ چند روز میں کیاجائے گا۔چیئر مین لٹریسی عنصر اقبال، چیئرمین سپیشل ایجوکیشن صائمہ کنول، چیئرمین کالونیز محمد احسن علی اور چیئرمین مینجمنٹ اینڈ پروفیشنل ڈیویلپمنٹ رائے مرتضیٰ کے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہو گئی ان کو عہدے سے فارغ کردیا گیا۔قائمہ کمیٹی برائے مینجمنٹ اینڈ پروفیشنل ڈویلپمنٹ کے چئیرمین رائے مرتضیٰ اقبال خلاف عدم اعتماد کی تحریک حکومتی ارکان رانا عبد الستار ، محمد سہیل خان ، رفعت عباسی اور ضیا الرحمن جبکہ قائمہ کمیٹی برائے لٹریسی کے چیئرمین عنصر اقبال کے خلاف حکومتی ارکان فیصل اکرم، لعل محمد ، جعفر علی ہوچہ اور عمران جاوید نے اور قائمہ کمیٹی برائے کالونیز کے چیئرمین احسن علی کے خلاف حکومتی ارکان نوید اسلم ، غزالی سلیم بٹ، زکیہ خان اور عائشہ جاوید نے تحریک عدم اعتماد جمع کروائی جبکہ قائمہ کمیٹی برائے سپیشل ایجوکیشن کی چئیر مین سائمہ کنول کے خلاف حکومتی ارکان محمد یوسف ، غضنفر عباس، عطیہ افتخار اور فیلبوس کرسٹوفر نے تحریک عدم اعتماد جمع کروائی تھی۔آئندہ چند روز میں بقیہ چیئرمین شپ کے خلاف عدم اعتماد لائی جائے گی۔پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ نے اپوزیشن کے چیئرمین کو عہدوں سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔پنجاب اسمبلی اجلاس میں ضمنی بجٹ 2024-25 کے 509 ارب 71 کروڑ سے زائد مالیت کے 38 مطالبات زر اپوزیشن کی عدم موجودگی میں منظور کر لیا گیا، پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید علی حیدر گیلانی نے عالمی یوم جمہوریت کی مناسبت سے ایوان میں قرارداد پیش کی جو کثرت رائے سے منظور کر لی گئی، ایجنڈا مکمل ہونے پر پنجاب اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا،پنجاب اسمبلی کااجلاس 4گھنٹے 4 منٹ کی تاخیر سے سپیکر ملک محمد احمد کی صدارت میں شروع ہوا،سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے ایوان میں گفتگو کرتیہو ئے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں قانون کی خلاف ورزی نہیں ہونے دوں گا،اجلاس میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے حکومتی رکن احسن رضا نے کہا کہ ادھر جو بدتمیزی کا جو طوفان برپا ہے جو جمہوریت کے لئے اچھا شگون نہیں ہے۔وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمن نے پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ کے تمام سٹاف،محکمہ قانون سٹاف اور وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ سٹاف کیلئے تین ماہ کی تنخواہ اعزازیہ دینے کااعلان کردیا،اجلاس میں 510 ارب روپے سے زائد مالیت کے ضمنی بجٹ2024-25ء￿  کی منظور دی گئی۔پنجاب اسمبلی میں مالی سال 2024-25کے ضمنی مطالبات زر کی مد میں نظام عدل کے 77کروڑ 19لاکھ 57ہزار روپے پنجاب اسمبلی میں مالی سال 2024-25کے ضمنی مطالبات زر کی مد میں جیل خانہ جات و سزا یافتگان کی بستیاں کے 3ارب 26کروڑ 89لاکھ 56ہزار روپے،مالی سال 2024-25کے ضمنی مطالبات زر کی مد میں خدمات صحت کے 16ارب 93کروڑ 55لاکھ 42ہزار روپے، مالی سال 2024-25کے ضمنی مطالبات زر کی مد میں صحت عامہ کے 13ارب 62کروڑ 54لاکھ 7ہزار روپے،مالی سال 2024-25کے ضمنی مطالبات زر کی مد میں زراعت کے 4ارب 87کروڑ 5لاکھ 10ہزار روپے، اس طرح مجموعی طور پر509ارب 71کروڑ22لاکھ 46ہزار 289 روپے مالیت کے 38 مطالبات زر منظورکر لئے۔