نئے سال کی رات 12 انگور کھانے کی روایت، خوش قسمتی کی علامت

اس روایت کے مطابق آدھی رات کو گھڑی کی ہر گھنٹی کے ساتھ ایک انگور کھایا جاتا ہے
 کوئی آخری گھنٹی سے پہلے تمام 12 انگور کھا لے تو نیا سال کامیابیوں سے بھرپور ہوتا ہے
 لاہور(نیٹ نیوز)جب نئے سال کے آغاز پر گھڑی کی سوئیاں رات کے بارہ بجاتی ہیں تو دنیا بھر میں آتش بازی اور تقریبات کا شور ہوتا ہے، تاہم اسپین اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک میں لوگ اس موقع پر آتش بازی کے بجائے 12 انگور کھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مانا جاتا ہے کہ یہ سادہ مگر منفرد روایت آنے والے سال میں خوش قسمتی، محبت اور خوشحالی لاتی ہے۔دنیا کے مختلف خطوں میں نئے سال کو خوش آمدید کہنے کے اپنے اپنے انداز ہیں۔ کہیں مخصوص رنگ پہنے جاتے ہیں، کہیں نئے عہد و پیمان کیے جاتے ہیں، لیکن اسپین میں آدھی رات کو 12 انگور کھانے کی رسم سب سے زیادہ منفرد سمجھی جاتی ہے۔اس سال یہ روایت سوشل میڈیا پر خاص طور پر مقبول ہو گئی ہے۔ انسٹاگرام پر لوگ اس حوالے سے ریلز، مزاحیہ ویڈیوز اور کاؤنٹ ڈاؤن کلپس شیئر کر رہے ہیں، جبکہ کئی صارفین آخری لمحے میں انگور خریدنے کے طریقے بھی پوچھتے نظر آئے۔ آن لائن اسٹورز پر انگور کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔اس روایت کے مطابق آدھی رات کو گھڑی کی ہر گھنٹی کے ساتھ ایک انگور کھایا جاتا ہے۔ یہ 12 انگور آنے والے سال کے 12 مہینوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور ہر انگور کو اس مہینے کے لیے خوش قسمتی اور خوشحالی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی شخص آخری گھنٹی سے پہلے تمام 12 انگور کھا لے تو نیا سال خوشیوں اور کامیابیوں سے بھرپور ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق اس روایت کی ابتدا اسپین میں 1800 یا 1900 کی دہائی میں ہوئی۔ ایک روایت یہ ہے کہ ایک سال انگور کی غیر معمولی پیداوار ہونے پر کسانوں نے فروخت بڑھانے کے لیے یہ طریقہ اپنایا۔ جبکہ ایک اور نظریے کے مطابق یہ رسم امیر طبقے کا مذاق اڑانے کے لیے شروع کی گئی، جو نیا سال انگور اور شیمپین کے ساتھ مناتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ روایت عوام میں مقبول ہو گئی اور قومی رسم کی حیثیت اختیار کر گئی۔