پنجاب کے علاقے تلہ گنگ سے افغان شناخت یافتہ دہشت گرد قاسم عرف حسن کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس کا تفصیلی بیان بھی منظرعام پر آ گیا ہے۔
سیکیورٹی حکام کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں، گرفتار دہشت گرد نے بتایا کہ وہ ایک سال قبل افغانستان سے پاکستان کے لکی مروت علاقے میں آیا تھا۔ وہاں اس کی ملاقات سرہ درگہ میں 2025 میں ایک طالبان کمانڈر، جس کا نام ارمانی ہے، سے ہوئی۔ اس ملاقات کا مقصد جہاد کے لئے تیاریاں کرنا تھا اور اسے جہادی سرگرمیوں میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی۔اس نے بتایا کہ کمانڈر ارمانی نے اسے فدائی حملہ کرنے کے لیے تیار کرنے کا مشورہ دیا۔ اس کے مطابق، انہوں نے فوجی قلعہ پر فدائی حملہ کرنے کے لیے ریکی بھی کی، لیکن مناسب موقع نہ ملنے کے باعث حملہ عمل میں نہیں لایا جا سکا۔دہشت گرد کا کہنا ہے کہ بعد میں اس نے کمانڈر ارمانی کے مشورے پر تنظیم میں واپسی کی، جہاں اس سے کہا گیا کہ وہ نئے لوگوں کو تنظیم میں شامل کرے۔
اس نے بتایا کہ اس نے 5 افراد کو کمانڈر ارمانی کے حوالے کیا، جن میں سے ہر ایک کے بدلے اسے 10 ہزار روپے ملے۔قاسم عرف حسن نے مزید بتایا کہ ستمبر کے مہینے میں وہ پنجاب چلا گیا تاکہ وہاں لڑکوں کی تلاش کرے اور انہیں تنظیم میں شامل کرے۔ اس کا مقصد تنظیم کو مضبوط بنانا اور نئے افراد کو جہادی سرگرمیوں میں شامل کرنا تھا۔ تاہم، چند دن بعد ہی پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔یہ تفصیلات سیکیورٹی اداروں کے مطابق، دہشت گردی کی ان سرگرمیوں اور تنظیم کے رکنیت سے متعلق ایک اہم انکشاف ہے، جو پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں میں ایک اہم مرحلہ ہے۔