پنجاب کابینہ کے 22ویں اجلاس کا اہم ایجنڈا منظر عام پر آگیا

پنجاب کابینہ کے 22ویں اجلاس کا اہم ایجنڈا منظر عام پر آگیا

پنجاب کابینہ کا 22 واں اجلاس وزیر اعلیٰ مریم نواز کی صدارت میں آج دوپہر ایک بجے ایوان وزیر اعلیٰ میں منعقد ہوگا۔

 اس اجلاس میں 88 نکاتی ایجنڈا پیش کیا جائے گا جس میں اہم موضوعات شامل ہیں۔سب سے پہلے پنجاب واٹر اینڈ سینی ٹیشن اتھارٹی ایکٹ 2024 کی منظوری پر بات ہوگی۔ اس کے بعد گندم اُگانے والے کسانوں کے لیے اعزازیے کی منظوری ایجنڈے کا حصہ ہوگی، تاکہ کسانوں کی محنت کی قدر کی جا سکے۔اجلاس میں سی پی اے ایشیا اور ساؤتھ ایسٹ ایشیا ریجنل کانفرنس کے لیے فنڈز کی منظوری پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، چیف منسٹر سپیشل انیشیٹو فور ڈائلیسس پروگرام کے لیے اقدامات کی منظوری دی جائے گی، جس سے صوبے میں ڈائلیسس کے مریضوں کے علاج میں سہولت ملے گی۔اس کے علاوہ، پنجاب میں سائنس اینڈ کلیو کے قیام کی منظوری بھی ایجنڈا میں شامل ہوگی، جس سے تعلیم اور تحقیق کے میدان میں ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔ اسی طرح سرپلس فنڈز کی انویسٹمنٹ کے لیے کیش مینجمنٹ فنڈ کے قیام کی منظوری پر بھی بات کی جائے گی۔

پنجاب میں سکولوں میں ٹیچنگ انٹرن پروگرام شروع کرنے کی منظوری کا ایجنڈا بھی اہم ہے۔ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے نئے اساتذہ کی تربیت کی جائے گی۔اسی طرح، گریڈ 1 سے 15 تک کنٹریکٹ پر بھرتیوں کی منظوری پر بھی غور ہوگا، جس سے مختلف محکموں میں عملے کی کمی کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔الیکٹرک بسوں کے لیے نیا بس سٹینڈ بنانے کے لیے جگہ کی فراہمی کے ایجنڈے کے تحت لاہور اور دیگر شہروں میں ماحول دوست سفری سہولتوں کی فراہمی پر بات کی جائے گی۔

آخر میں، اساتذہ کا اعزازیہ 12 ہزار 500 روپے سے بڑھا کر 20 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی تجویز پیش کی جائے گی، تاکہ اساتذہ کی محنت کو بہتر طور پر سراہا جا سکے۔یہ اجلاس صوبے کی ترقی کے لیے اہم فیصلوں کی منظوری کے لیے ایک بڑا موقع ہوگا، جس کا اثر تعلیم، صحت، زراعت اور ماحولیاتی شعبوں پر پڑے گا۔