جنگ کی دھمکیوں کی حکمت عملی بھارت کے اندرونی تضادات کے بوجھ تلے دب کر زمین بوس ہوگئی، ایئر یونی ورسٹی میں خطاب
اسلام آباد ( آن لائن )سابق صدر آزاد جموں و کشمیرسردار مسعود خان نے ایئر یونی ورسٹی اسلام آباد میں منعقدہ قومی کانفرنس میں ’’معرکہ حق: پاکستان کی ذمہ دارانہ ریاستی حکمتِ عملی‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا نہ صرف پاکستان کی عسکری برتری بل کہ اس کی سفارتی بصیرت کا بھی برملا اعتراف کر رہی ہے۔ جنگ میں فتح سے نہ صرف پاکستان کا قومی وقار بلند ہوا ہے بل کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے دلوں میں بھی امید کی نئی کرن روشن ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں حالیہ پاک بھارت تنازعے کے تناظر میں مسئلہ کشمیر کے سفارتی امکانات کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی سیاسی حالات، سفارتی تبدیلیاں اور پاکستان کی تذویراتی ضروریات ایک نئے اور فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکی ہیں۔یہ تاریخی فتح نہ صرف پاکستان کے عالمی وقار میں اضافے کا باعث بنی بل کہ اس نے دو جوہری طاقتوں کے مابین عسکری نظریات کو بھی ازسرنو متعین کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کا مستقل مخاصمت پر مبنی سوچ اور ایٹمی دھمکیوں کی حکمتِ عملی اب اپنی اندرونی تضادات کے بوجھ تلے زمین بوس ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے کشمیریوں کی جائز جد وجہد کو دہشت گردی قرار دینا اور خود پاکستان میں ریاستی دہشت گردی کی سرپرستی کرنا ایک کھلی منافقت ہے، جسے ہر عالمی فورم پر بے نقاب کیا جانا چاہیے۔