سانحہ گل پلازہ پر قائم عدالتی کمیشن کی کارروائی تقریباً مکمل ہونے کے قریب پہنچ گئی ہے، اور کمیشن کی رپورٹ جلد جاری ہونے کا امکان ہے۔
کمیشن نے اس سلسلے میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) سے مزید سوالات کیے ہیں اور وضاحت طلب کی ہے۔ اس حوالے سے، رجسٹرار عدالتی کمیشن اقبال حسین کھٹی نے ڈی جی ایس بی سی اے کو خط لکھا ہے جس میں پوچھا گیا ہے کہ گل پلازہ جیسی عمارتوں میں قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کی ذمہ داری کس اتھارٹی پر عائد ہوتی ہے۔ کمیشن نے یہ بھی سوال کیا ہے کہ بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز پر عملدرآمد کروانے میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا کردار کیا ہے، اور قواعد کی نگرانی اور نفاذ کے حوالے سے ادارے کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔ عدالتی کمیشن نے ایس بی سی اے سے یکم اپریل تک تحریری جواب طلب کیا ہے۔ یاد رہے کہ سندھ حکومت کی درخواست پر سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کیا گیا تھا، جسے آٹھ ہفتوں میں انکوائری مکمل کرنے کا ہدف دیا گیا تھا۔
کمیشن نے اب تک عینی شاہدین، دکانداروں، متاثرین، اور ماہرین کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں۔ اس کے علاوہ، ایس بی سی اے، کے ایم سی، بورڈ آف ریونیو، فلاحی اداروں کے کارکنان، ریسکیو 1122، شہری دفاع، ڈی سی اور فائر بریگیڈ کے سربراہان کے بیانات بھی قلمبند کیے جا چکے ہیں۔ یہ کمیشن کی تحقیقات کا اہم مرحلہ ہے، اور رپورٹ جلد سامنے آنے کی توقع ہے، جو اس واقعے کے ذمہ داروں اور ذمہ داریوں کا تعین کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔