پنجاب میں جبری مذہب تبدیلی اور اقلیتوں کی زبردستی شادیوں کے خلاف پیش رفت

پنجاب میں جبری مذہب تبدیلی اور اقلیتوں کی زبردستی شادیوں کے خلاف پیش رفت

پنجاب میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے 2026 کا نیا بل صوبائی اسمبلی میں جمع کرایا گیا ہے۔

یہ بل چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے اقلیتی امور فیلبوس کرسٹوفر نے پرائیویٹ ممبر کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔  
جبری مذہب تبدیلی کی روک تھام:بل میں جبری مذہب تبدیلی کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ اس عمل میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی تجویز دی گئی ہے۔ اگر کوئی شخص زبردستی مذہب تبدیل کرتا ہے، تو اسے پانچ سال قید اور جرمانے کی سزا دی جائے گی۔  

اقلیتوں کی جبری شادی کی روک تھام:بل میں اقلیتوں کی جبری شادی کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے، تاکہ ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔  

امتیازی سلوک کی روک تھام:تعلیمی اداروں اور ملازمتوں میں اقلیتی شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کو روکنے کے لیے قوانین وضع کیے گئے ہیں۔  

عبادت گاہوں کا تحفظ:اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں تاکہ ان کی مذہبی آزادی برقرار رہ سکے۔  

تعلیمی نصاب کی نگرانی:صوبہ بھر میں تعلیمی نصاب کا جائزہ لینے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ نفرت انگیز یا امتیازی مواد کی نشاندہی اور اس کی روک تھام کی جا سکے۔

اس سلسلے میں، یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے اس معاملے پر گزشتہ ہفتے ایک اہم فیصلہ جاری کیا ہے، جو اس بل کی اہمیت اور ضرورت کو مزید واضح کرتا ہے۔  
یہ بل اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق کے دفاع کے لیے ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔