میانمار میں فوجی حکومت نے ہنگامی حالت میں مزید 6 ماہ کی توسیع کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ملک میں امن اور استحکام کو یقینی بنانا اور آزادانہ و منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے حالات کو سازگار بنانا ہے۔
میانمار کی فوجی قیادت نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں انتخابات کے لیے ضروری استحکام کی کمی ہے، اور اس وجہ سے انتخابات میں تاخیر ہو رہی ہے۔میانمار میں فوج نے 1 فروری 2021 کو بغاوت کے ذریعے منتخب حکومت کو اقتدار سے ہٹایا تھا اور آنگ سان سوچی سمیت اہم رہنماؤں کو گرفتار کر لیا تھا۔ اس کے بعد سے ملک میں فوجی حکومت قائم ہے اور عوامی مظاہرے اور مزاحمت کی تحریکیں جاری ہیں۔ ان حالات میں فوج نے ہنگامی حالت کا نفاذ کیا ہے اور انتخابات کے انعقاد کے لیے مزید وقت کی ضرورت محسوس کی ہے۔
یاد رہے کہ میانمار کی فوج نے رواں سال 2024 میں عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا، لیکن جاری سیاسی بحران اور عوامی مزاحمت کی وجہ سے اس میں تاخیر ہو رہی ہے۔ فوجی حکومت کا کہنا ہے کہ انتخابات کے انعقاد کے لیے ملک میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری کی ضرورت ہے تاکہ انتخابات کو آزادانہ اور منصفانہ طور پر کرایا جا سکے۔