پانچوں گھی میں کس کی؟

محمدفاروق سپرا

جب آپ کو اپنی محنت کاثمرنہ ملے،اپنی جدوجہدکامناسب عوضانہ نہ ملے،اپنی طویل کوششوں کے اختتام پر معاشی خوشحالی کی خوشخبری کی بجائے مایوسی ملے تو آپ پرکیا بیتے گی؟ان سوالوں کے جوابات  نارووال  کے علاقے صادق آباد کے کاشتکارمدثرعمر سے بہترشایدکوئی نہ دے سکے۔ اس کے ساتھ  ہاتھ ہواتووہ سبزی منڈی میں ہی روہانساہوگیا۔مدثرعمراپنی محنت شاقہ سے اگائی گوبھی کی فصل لے کر نارووال منڈی میں گیا تو بیوپاریوں نے اس وقت اس کی گوبھی کی قیمت 2سے 5روپے فی کلولگائی۔ مدثرعمراپنی محنت کامعاوضہ سن کراس قدردلبرداشتہ ہواکہ اس نے گوبھی بیچنے کی بجائے منڈی میں آئے خریداروں میں مفت  بانٹ دی۔اورتب تک بانٹتارہاجب تک پوری گاڑی میں رکھاایک ایک پھول ختم نہ ہوگیا۔ مدثرعمرکا کہنا تھا کہ ایک ایکڑسبزی کی کاشت پر 40ہزارروپے خرچ آجاتا ہے، ہم2سے 5روپے کلوکے حساب سے سبزی خریدی جاتی ہے اور پھر مافیا بھی ہم ہی قرار پاتے ہیں۔
یہاں اس کااستحصال مڈل نے اسی طرح کیا جیسے گندم کے موسم میں  کاشتکار کا استحصال کیاگیا۔ مڈل مین کاشتکار سے تیارفصل 2ہزارسے2500روپے من کے حساب سے خرید کربعدمیں کسانوں کے ساتھ ہی  اسی پریس کانفرنس میں بیٹھ گیا جس میں وہ  حکومت کی طرف سے  فصل کی مناسب قیمت نہ لگنے کا شکوہ کررہاتھا۔  گندم کی فصل کے بعد موسمی سبزیوں کاسیز ن آیا تو مدثرعمر کی صورت میں مڈل مین کے ایک اورشکارکی صورت میں سامنے آگیا۔ مڈل مین کسان سے وہی گوبھی 2اور5روپے کلو کے حساب سے خریدکرخود بازارمیں 100اورسواسوروپے کلوکے حساب سے بیچتے ہیں۔ اجناس کی خریداری  میں مڈل مین  کے استحصالی کردارکے بارے میں باتیں کرتے کرتے  ہم دونوں بھائی رات کے پچھلے پہر نیند کی وادیوں میں چلے گئے۔ 
وقت بدلاتو معاشرت،معیشت  حتیٰ کہ جرائم تک کی نوعیت اور ترجیحات بدل گئیں۔اجناس اور غذائی اشیاپیداکرنے والے وطن عزیز کی بنیادوں کو کرپشن کرنے والوں اور کرپشن روکنے کے نام پرمزیدکرپشن کرنے والوں نے اجناس اور غذائی اشیادرا?مد کرنے پرمجبورکردیا۔ جس کیمعاشرے اورمعاشرتی زندگی پریہ اثرات پڑے ہیں کہ غربت اورامارت کے درمیان حائل خلیج مزیدگہری ہوگئی ہے۔ غریب دووقت کی روٹی پرجرائم کاراستہ اختیارکرنے پرمجبورہوگیاہے اور جرائم پیشہ عناصر اپنے جرائم کی نوعیت اور ااپنے اہداف تبدیل کرنے پرمجبورہوگئے ہیں۔ 
ایک طرف ہم اپنے ملک میں اگاکربھی اجناس اور اشیائے خورونوش درآمد کرنے پرمجبورہیں جبکہ دوسری جانب عالم یہ  ہے کہ جوکچھ ملک میں اگتاہے اس کے اہتمام کرنے کے ساتھ ہاتھ کرنے کو اپنے حق سمجھتے ہیں  جس کی حالیہ مثال مدثرعمرہے جس نے خون جگر سے ا?بیاری کاکرے معاشرے کے تمام طبقات کے لیے سبزی اگائی مگر اس کی محنت کا اسے جوثمرملا وہ قابل رحم ہے۔ 
گندم کی تیارفصل کے لیے کچھ عرصہ پہلے سرکاری طورپرقوت خرید واضح نہ ہونے کی وجہ سے مڈل مین سے بھرپورفائدہ اٹھایا اورحرام ہے جوکسان کو 2500روپے من سے زیادہ دیئے ہوں۔ گندم کی سرکاری خریداری کے حوالے سے تاخیری حربوں پرجنوبی پنجاب میں نرخوں کا شدید ترین بحران رہا۔ باردانہ کی تقسیم میں دھکم پیل ہاتھاپائی باردانہ بیوپاریوں میں فروخت کرنے پر کسانوں نے احتجاج بھی کیا

جنوبی پنجاب میں سرکاری سطح پر گندم کی خریداری کاعمل شروع نہ ہونے پر نرخوں کاشدید ترین بحران پیدا ہونا شروع ہوگیا تھا اور  کسانوں کواپنے فصل اونے پونے آڑھتیوں اور بیوپاریوں کوفروخت کرنا پڑی جوذرائع کے مطابق  گیارہ سوروپے سے لیکر ساڑھے گیارہ سو روپے فی من تک خریدکرتے رہے۔کسانوں نے بہت آہ وبقاکی مگرکوئی ان کی بات سننے پرراضی نہ ہوا۔ سندھ میں ایک جگہ پر تو گندم خریداری کاکوراڈی نیٹر باردانہ کسانوں کودینے کی بجائے ا?ڑھتیوں  کودیتے پکڑاگیا۔ یہ توحال ہے اپنے ملک کیلیے اجناس اوراشیائے خوردنی اگانے والوں کا۔
اب تصویرکادوسرارخ بھی دیکھئے کہ ملک کے عوام بھوکوں مررہے ہیں۔ ایک مثا۔ گوجرانوالہ کے علاقے کوٹ اسحاق میں ریسٹورنٹ میں دیکھنے میں آئی جہاں سے چور ریسٹورنٹ سے ڈیڑھ من چکن کے پکوڑے اور 25 کلو مچھلی چوری کر کے لے گئے۔ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ چور ریسٹورنٹ سے 10 کلو رائتہ اور 4 کلو سلاد بھی ساتھ لے کر گئے۔سرقہ کیے گئے سامان سے ہی اندازہ کیاجاسکتاہے وہ کوئی چورنہیں بھوکوں کاٹولہ تھاجن کی اولین ترجیح لذتِ کام ودہن کااہتمام تھا۔ یا غریبوں کاایک ٹولہ چوربن گیاتھا جنہوںنے کئی دن سے کھانانہیں کھایاتھا۔
بات نکلی ہے تو پتوکی کے نواح میں حویلی کاذکرکیے بغیر مکمل نہیں ہوگا جہاں سے چورڈی اے پی کھاد کی بوریاں لے کرچلتے بنے۔ اس واردات سے یہ تاثرملتاہے کہ یہ وارت ایسے کسانوں نے کی جوڈی اے پی کھاد کی کمیابی پرناامیدی کاشکارہوکرکھادچوری کرنے پرمجبورہوگئے۔ اگرکھادمہنگی ہوناڈی اے پی کی بوریاں کرنے کاجواز ہے تو کیابجلی مہنگی ہونابجلی چوری کاجواز نہیں ہے۔
ابھی پچھلے دنوں  لاہورکے علاقے لکھوڈیئرمیں  اپنے ڈیرے پرجانے کااتفاق ہوا۔ چھوٹی سی سول آبادی میں رہنے والے زیادہ ترافراد غریب  طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور بجلی ان کے وسائل سے باہرہے۔ وہاںزیادہ ترمکین اپنی غربت سے تنگ آکر بجلی چوری پرایک عرصے سے مجبورہیں۔ وہاںجانے پرانکشاف ہواکہ واپڈاوالے آئے اورزیادہ ترمکینوںکے میٹراس لیاتارکرلے گئے کہ وہ بجلی  چوری کررہے ہیں۔یہاں سوال یہ ہے کہ وہ بجلی چوری پرکیوں مجبورہیں؟
کراچی میں ڈاکوؤں نے گن پوائنٹ پر قصاب کوروک کر قیمہ چھین لیا۔ قصاب کی جیب میں ہزاروں روپے،قیمتی موبائل اور نئی موٹرسائیکل بھی تھی مگر ڈاکوؤں نے قیمہ چھینا اور چلتے بنے۔ قصاب اس بات پرخوش تھا کہ چلوجان توبچی مگراس سے زیادہ حیرت زدہ بھی تھا کہ ڈاکوؤں نے موبائل کوہاتھ لگایا نہ  اس کی جیب میں رکھی رقم کے بارے میں پوچھا اورتواورقیمتی موبائل بھی نہ چھینا۔
یہاں قصورکے علاقے کھڈیاں  کے قریب واقع گاؤں اولکھ ہتھاڑ کاذکربھی ضروری ہے جہاں چورواردات کے دوران نقدی کے ساتھ  گھی،آئل  اورڈرائی فروٹ بھی لے گئے۔ ایسے چوروں کوچورکہنے کودل نہیں مانتا۔وہ یقینی طورپرچوروں کے روپ میں معاشرے کاکوئی پریشان حال طبقہ کے لوگ تھے جوغربت کی وجہ سے واردات  پرمجبورہوئے۔
راقم کے محلے دار گلستان خان تندور کاکاروبارکرتے ہیں،ایک رات ان کی دکان پرواردات ہوگئی۔ صبح پارک جاتے ہوئے ان سے 
آمناسامناہوا اور ان کے چہرے پرہوائیاں اْڑنے کاسبب پوچھا توعلم ہواکہ ان کی دکان پرچوری کی واردات ہوئی ہے۔ چورکچھ روپے لے گئے،ایل سی ڈی اتارلی مگر پھران کی بڑی ترجیح آٹاتھا،چوروں کو آٹے کی بوریوں کے سامنے سب کچھ ہیچ نظرآیا۔ وہ آٹے کی کچھ بوریاں،حتیٰ کہ گوندھا ہواآٹابھی لے کرچلتے بنے۔
کیا پتہ ڈاکوؤں کے لبادے میں غربت زدہ شہری بھوک اوربے روز گاری سے تنگ آکر ڈکیتی کاآپشن اختیارکرنے پرمجبورہوگئے ہوں۔اس بات کی تائیدبڑے بڑے دانشوروں نے بھی کی ہے کہ غربت انسان کو کفرکی حدتک لے جاسکتی ہے۔ خاص طورپروہ لوگ زیادہ قابل رحم ہیں جوغربت کی وجہ سے جرائم کاراستہ اختیارکرنے پرمجبورہوجاتے ہیں۔