وینزویلا نے ٹک ٹاک پر 1 کروڑ ڈالر کا جرمانہ عائد کر دیا

وینزویلا نے ٹک ٹاک پر 1 کروڑ ڈالر کا جرمانہ عائد کر دیا

وینزویلا کی سپریم کورٹ نے ٹک ٹاک کو مہلک وائرل ویڈیو چیلنجز کو روکنے میں ناکامی پر 10 ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

 یہ فیصلہ حال ہی میں وینزویلا میں تین بچوں کی موت کے بعد آیا ہے، جنہوں نے ٹک ٹاک کے وائرل چیلنجز میں حصہ لیا تھا۔جج تانیہ ڈی امیلیو نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹک ٹاک نے اس طرح کی ویڈیوز کو روکنے میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور ان ویڈیوز کی اجازت دے کر عوامی صحت کے لیے خطرہ پیدا کیا۔ اس فیصلے میں ٹک ٹاک کو وینزویلا میں اپنے دفاتر قائم کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے، تاکہ وہ مقامی قوانین کی تعمیل اور آن لائن مواد کی بہتر نگرانی کر سکے۔ جج نے ٹک ٹاک کو آٹھ دن کے اندر جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔یہ فیصلہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے اس بیان کے بعد آیا ہے، جس میں انہوں نے ٹک ٹاک کو گزشتہ برسوں میں ایک 12 سالہ لڑکی کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ اس لڑکی کی موت اس وقت ہوئی تھی جب وہ ٹک ٹاک کے ایک وائرل چیلنج میں حصہ لے رہی تھی۔ اس چیلنج میں بچوں کو خود کو خطرناک انداز میں پیش کرنے کی ترغیب دی جاتی تھی، جس کے نتیجے میں متعدد حادثات پیش آچکے ہیں۔

وینزویلا کے ٹیلی کمیونیکیشن کمیشن نے کئی برسوں میں انٹرنیٹ پر موجود کئی ویب سائٹس کو بلاک کیا ہے جو مقامی قوانین کے مطابق نہیں چل رہی تھیں۔ اس نئے فیصلے کے بعد ٹک ٹاک پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر خطرناک چیلنجز اور مواد کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرے۔ٹک ٹاک نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے، لیکن یہ معاملہ دنیا بھر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کو ظاہر کرتا ہے، جو خطرناک یا غیر محفوظ مواد کو کم کرنے کے حوالے سے عالمی سطح پر دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔