دھرنے جاری، مذاکرات کیدروازے بند نہیں کئے،تحریک کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا :حافظ نعیم
لاہور(خصوصی رپورٹ)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت روزانہ کی بنیاد پر عوام پر مظالم ڈھا رہی ہے، حکمران اپنی عیاشیاں ختم کرنے کے بجائے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال رہے ہیں، جماعت اسلامی کے عوامی حقوق کیلئے لاہور، کراچی ، پشاور سمیت مختلف شہروں میں دھرنے جاری ہیں، مطالبات کی منظوری تک دھرنا ختم نہیں کرینگے، حکومت کو مذاکرات کیلئے طریقہ کار بتادیا ،بات چیت کے دروازے کبھی بند نہیں کئے، حکومت کو سمجھ آگیا جماعت اسلامی ایسے جانے والی نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیئرنگ کراس چوک میں جماعت اسلامی کے دھرنے کے پندرھویں روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیرجماعت اسلامی لاہور ضیا ء الدین انصاری اور دیگر راہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسے کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ انتظامیہ نے لیاقت باغ کو تالے لگا کرجلسہ کی اجازت دینے سے انکار کردیا ،جماعت اسلامی کے کارکن تالے توڑ کر اندر جانے کوتیار تھے لیکن قیادت نے انہیں روکا ہے،اگر حکومت نے جلسے کی اجازت نہ دی تو اسلام آباد اور راولپنڈی میں احتجاج ہوگا اور تمام سڑکیں بند کردی جائیں گی، 3 ستمبر کو بھرپور ملک گیر ہڑتال ہوگی،اس کے بعد احتجاجی تحریک کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا ،موجودہ نظام گل سڑ چکا اور کسی شعبے میں عوام کو ریلیف نہیں مل رہا، لوگوں کی جان و مال محفوظ نہیں۔امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور بلوچستان میں بدامنی پر تشویش ہے ،پاکستان میں اب بھی انگریزوں کا بنایا نظام قائم ہے اور انتخابی نظام میں بھی بڑی خرابیاں ہیں، موجودہ انتخابی نظام میں زیادہ تر جاگیردار ہی آگے آتے ہیں، جس کے باعث نوجوان مایوس ہیں اور ملک چھوڑنے کی خواہش رکھتے ہیں یہ ملک کے لیے بہت بڑا المیہ ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے بچوں سے زیادتی کے مجرموں کو سخت ترین سزا دینے کی تجویز دی تھی تاکہ آئندہ کسی بچی کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش نہ آئے ،مجرموں کے خلاف م ئوثر کارروائی اور پولیس اصلاحات ناگزیر ہیں، پختونخوا ہ کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بتائیں پولیس اصلاحات اب تک کیوں نہیں ہوئیں، حکومت کو مجرموں پر ہاتھ ڈالنا ہوگا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہوسکے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ ملک میں مخصوص طبقے کو مراعات حاصل ہیں ، عام آدمی کیلئے کاروبار کرنا بھی مشکل بنا دیا گیا ، طلبہ، مزدور اور چھوٹے کسان ٹیکسوں اور مہنگائی کا بوجھ اٹھا رہے ہیں ،عام آدمی کو ملک میں بہتر سفری سہولیات تک دستیاب نہیں، افسران اور وزرا بڑی اور مہنگی ترین گاڑیوں میں گھومتے ہیں ، حکمران عوام سے بھتہ وصولی کی بجائے اپنی عیاشیاں ختم کریں ، افسرشاہی کو مفت پٹرول کی سہولت، گیس کی مراعات اور بجلی پر دی جانے والی سبسڈی ختم کی جائے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمرانوں نے میٹرو بس اور اورنج ٹرین بنا کر سمجھا کہ انہوں نے بڑا کارنامہ انجام دے دیا جبکہ دنیا کے کئی ممالک میں زیرزمین ٹرینوں کا جدید نظام موجود ہے ، لاہور میں بھی سب وے کا نظام ہونا چاہیے تھا اگر پابندیوں کے باوجود ایران زیرزمین ٹرین کا منصوبہ بنا سکتا ہے تو پاکستان ایسا کیوں نہیں کرسکتا۔