سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر ابھی تک کوئی مؤثر عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے، اور ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے نہ صرف دہشت گردی کے خلاف کارروائی مکمل ہو بلکہ عوام کو بھی کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔
انہوں نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ حکومت میں تھے، اس وقت حالات بہت خراب تھے، اور اب دہشت گرد آبادی میں پناہ لیتے ہیں جس سے عام عوام کو جان کا خطرہ لاحق ہے۔علی امین کا کہنا تھا کہ انہوں نے پولیس کو بہتر بنایا اور پولیس نے اچھی کارروائیاں کیں، جن میں عام عوام کو نقصان نہیں پہنچا۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آبادی پر مارٹر گولے برسائے جائیں تو یقینی طور پر عوام کی جانیں جائیں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ باجوڑ میں جرگہ کے ذریعے مسائل حل کیے گئے ہیں، اور رضاکارانہ طور پر لوگوں نے کہا کہ وہ علاقے کا کنٹرول حکام کے حوالے کریں گے۔انہوں نے پی ٹی آئی کے بنی گالہ سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کا بھی ذکر کیا، اور کہا کہ سہیل آفریدی کو پارٹی نے منتخب کیا ہے اور وہ ان کا بھائی ہے، اس لیے ان کا ساتھ دیا جائے گا۔ علی امین نے مزید کہا کہ صوبے کو بہت سے چیلنجز درپیش ہیں اور ہر ادارہ اپنی ذمہ داری نبھائے، اور جس منصب پر بھی ہوں، اس کا جواب دہ ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے وہ کوئی روک ٹوک نہیں رکھتے، اور سہیل آفریدی کی ملاقات پارٹی کے قیادت سے کروانے کا مشورہ دیا۔ آخر میں، انہوں نے کہا کہ پارٹی کی جانب سے کسی بھی احتجاجی اقدام کے احکامات کی پیروی کی جائے گی، اور آئین کے اندر رہتے ہوئے عوام کو اپنے حقوق فراہم کیے جانے چاہئیں تاکہ عوام اور اداروں کے درمیان خلاء پیدا نہ ہو۔