آل پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ذکا اشرف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے شوگر انڈسٹری کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، تاہم یہ عمل ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی شوگر انڈسٹری سالانہ تقریباً 12 ملین میٹرک ٹن چینی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس میں سے 70 فیصد پیداوار کمرشل استعمال کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ذکا اشرف کے مطابق ہر سال تقریباً 6 ملین ٹن چینی برآمد کی جا سکتی ہے، جس سے پاکستان کو تقریباً 4 ارب امریکی ڈالر تک زرمبادلہ حاصل ہونے کا امکان ہے۔پریس کانفرنس میں شوگر انڈسٹری سے وابستہ دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں، جن میں چیئرمین پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن چوہدری اسلم، چیئرمین نارتھ زون محمد شکیل، چیف ایگزیکٹو اتحاد شوگر ملز فیصل احمد مختار، سی ای او فاطمہ شوگر ملز خان محمد اشرف، اویس بٹ، علی الطاف سلیم، عمران احمد اور سیکرٹری جنرل شوگر ملز ایسوسی ایشن شامل تھے۔ذرائع کے مطابق پریس کانفرنس کے دوران شرکا نے شوگر انڈسٹری کی ترقی، اضافی چینی کی برآمد اور عالمی مارکیٹ میں مواقع پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔