احتسابی عمل مزید سخت،13 شوکاز نوٹسز

 انسپکٹر آصف علی اور سب انسپکٹر عبدالرزاق کی سروس ضبط ،11 افسران و ملازمین کی اپیلیں منظور ، معافی مل گئی
 لاہور(کرائم رپورٹر) انویسٹی گیشن پولیس لاہور میں احتسابی عمل مزید سخت کر دیا گیا۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے اپنے دفتر میں اردل روم کے دوران 13 شوکاز نوٹسز اور 28 اپیلوں کی سماعت کی۔سماعت کے دوران اختیارات سے تجاوز کرنے پر انسپکٹر آصف علی اور سب انسپکٹر عبدالرزاق کی ایک، ایک سال بطور اے ایس آئی سروس ضبط کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ اسی نوعیت کی بے ضابطگی پر اے ایس آئی وارث علی کی ایک سال جبکہ کانسٹیبل ارسلان کی دو سال سروس ضبط کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ شوکاز نوٹسز کے تسلی بخش جواب نہ دینے پر دیگر افسران و ملازمین کو بھی محکمانہ سزائیں دی گئیں، جبکہ اپیلوں کی سماعت کے دوران 11 افسران و ملازمین کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے انہیں معاف کر دیا گیا۔ دیگر پیش ہونے والے افسران کو آئندہ محتاط رہنے کی وارننگ جاری کی گئی۔اس موقع پر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا کا کہنا تھا کہ محکمہ پولیس میں خود احتسابی کا مؤثر نظام موجود ہے اور کرپشن یا اختیارات سے تجاوز کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اردل روم کا مقصد محکمانہ احتساب کے عمل کو مؤثر اور شفاف بنانا ہے، جبکہ محنتی، قابل اور ایماندار پولیس ملازمین ہی محکمے کا حقیقی اثاثہ ہیں۔