سیدہ سونیا عمران
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کراچی میں سائیکل ایمبولینس کا افتتاح کردیا بس ایسی چیز کی تو کمی تھیدنیا چاند پر پہنچ چکی ہے ڈرون کے ذریعے ڈیلوری کی جا رہی ہے روبوٹس آگئے ہیں مختلف شبہ جات میں تو انسانوں کی جگہ روبوٹس نے لے لی ہے AIاسسٹنٹس آگئے ہیں لگتا ہے بہت جلد ہم اونٹ،گھوڑوں اور گدھوں پرا یمبولینس سروس چلا رہے ہوں گے میئر صاحب ہمارے برابر والے صوبے صوبہ پنجاب میں ایئر ایمبولینسز چلا دی گئی ہیں ایمبولینسز کے فلیٹس بنا دیئے گئے ہیں تو کیاکراچی کی عوام کے صرف سائیکلیں ہی رہ گئی ہیں ؟دنیا بھر میں ایمر جنسی کی صورتحال میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے ا یمبولینس سروس استعمال کی جا رہی ہے اور ہم !!!! میئر صاحب ہنگامی صورتحال اور حادثات کی صورت میں پہلے10منٹ انسانی زندگی بچانے کے لئے سب سے اہم ہوتے ہیں خود سوچیں سائیکل ایمبولینس جب تک حادثے کی جگہ پر پہنچے گا جب تک زخمی ہونے والے بچا رے اللہ کو پیارے ہو چکے ہوںگے اورمیئر کراچی ان سوالات کا توجواب دیں کہ سائیکل ایمبولینس میں مریض کو ہسپتال کیسے لے کر جا یا جائے گا؟اور اگر مخدوش سڑکوں اور بڑے بڑے کھڈوں میں سائیکل گر گئی تو کیا ہوگا؟اور اس کی چین اتر گئی ،پنچر ہو گئی تو کیا ہوگا؟سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا میئر کراچی کو اچھے مشورے دینے والا کوئی نہیں ہے ؟کوئی انہیں نہیں سمجھاتا کہ ایسے فضول منصوبے مترارف کروا کر اپنا مزاق نہ بنوائیں؟کاش انہیں کوئی سمجھاتا کہ دنیا اسمارٹ ایمبولینس اور تیز رفتار ایمر جنسی ریسپونس کی طرف جا رہی ہے اور ہماری تو سڑکیں سیدھی ہو کر نہیں دے رہی ہیں میئر کراچی ترقی کرنے کے لئے کراچی اور سندھ کو آگے لے کر جاناہے نہ کہ پتھر کے دور میں سندھ جیسے بڑے صوبے اور انٹر نیشنل شہر کراچی میں، جہاں جدید طبی سہولیات، مکمل طور پر لیس ایمبولینسز اور مؤثر ایمرجنسی انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے، وہاں سائیکل ایمبولینس کو نمایاں منصوبے کے طور پر پیش کرنا عوام کی بنیادی توقعات پوری نہیں کرتا بلکہ ان کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے حکومت کو ہسپتالوں کی بہتری، جدید ایمبولینسوں کی تعداد میں اضافہ، تربیت یافتہ عملے اور بروقت ریسکیو سسٹم پر زیادہ توجہ دینی چاہیے عوام کی خواہش یہی ہے کہ ایمرجنسی سروسز میں ایسے اقدامات کیے جائیں جو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں اور ہر شہری کو بروقت اور معیاری طبی امداد فراہم کر سکیں۔ نئی ٹیکنالوجی اور مؤثر منصوبہ بندی ہی عوام کے اعتماد کو مضبوط بنا سکتی ہے ایمرجنسی سروسز میں جدت صرف نئے منصوبے متعارف کرانے سے نہیں بلکہ ان کی افادیت، وسائل اور عوامی ضروریات کو مدنظر رکھنے سے آتی ہے اگرچہ سائیکل ایمبولینس مخصوص علاقوں میں ابتدائی طبی امداد کی فراہمی میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، تاہم عوام کی بڑی تعداد کا
مؤقف ہے کہ حکومت کو جدید ایمبولینسوں، ایئر ایمبولینس، ٹراما سینٹرز، لائف سپورٹ سسٹمز اور ریسکیو کے مجموعی نظام کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ ہر شہری کو بروقت اور معیاری طبی سہولت میسر آ سکے۔