عبدالحنان
پاکستان میں معاشی دباؤ اور مہنگائی کا مسئلہ گزشتہ چند برسوں میں ایک مستقل سماجی حقیقت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اشیائے خورونوش سے لے کر توانائی کے اخراجات تک، ہر شعبے میں قیمتوں کے اضافے نے متوسط اور کم آمدن طبقے کی زندگی کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ لاہور میں ہونے والا حالیہ ‘‘موٹر سائیکل دھکا مارچ’’ اسی بڑھتے ہوئے دباؤ کے خلاف ایک علامتی عوامی اظہار کے طور پر سامنے آیا، جس نے شہری سطح پر معاشی بے چینی کو ایک واضح صورت دی۔پاکستان مرکزی مسلم لیگ لاہور کے زیر اہتمام یہ احتجاج شاہین کمپلیکس سے لاہور پریس کلب تک منعقد کیا گیا، جس میں شہریوں، تاجروں، مزدوروں، طلبہ، رکشہ ڈرائیوروں اور دیگر طبقات نے شرکت کی۔ شرکاء نے موٹر سائیکلیں اسٹارٹ کرنے کے بجائے انہیں دھکا دے کر سفر کیا، جو اس حقیقت کی علامت تھا کہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام شہری کی نقل و حرکت کو بھی متاثر کیا ہے۔ پریس کلب کے باہر پہنچ کر بعض شرکاء نے احتجاجی انداز میں اپنے جذبات کا اظہار کیا اور حکومت سے مہنگائی میں کمی اور فوری ریلیف کا مطالبہ کیا۔احتجاج میں شریک مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ عیدالاضحیٰ جیسے اہم موقع کے قریب مہنگائی میں اضافہ عام شہری کے لیے اضافی مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ ان کے مطابق بازاروں میں خریداری کی قوت میں کمی، کاروباری سرگرمیوں میں سست روی اور روزمرہ اخراجات میں اضافہ ایک واضح معاشی دباؤ کی تصویر پیش کر رہا ہے۔معاشی اعداد و شمار بھی اس صورتحال کی پیچیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ سرکاری اور بین الاقوامی معاشی جائزوں کے مطابق حالیہ عرصے میں مہنگائی کی شرح تقریباً دو ہندسی سطح کے قریب رہی ہے، جبکہ توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح مختلف تخمینوں کے مطابق پاکستان کی ایک بڑی آبادی، یعنی کروڑوں افراد، یا تو خطِ غربت کے قریب زندگی گزار رہی ہے یا اس سے نیچے آ چکی ہے، جو معاشی دباؤ کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔یہ صورتحال اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ مہنگائی کا اثر صرف قیمتوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ براہِ راست سماجی زندگی، روزگار کے مواقع، اور عوام کی خریداری کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھاتا ہے بلکہ اس کے اثرات مجموعی مہنگائی کے رجحان پر بھی پڑتے ہیں، جس سے کم آمدن طبقہ زیادہ متاثر ہوتا ہے۔لاہور میں ہونے والے اس احتجاج کو شہری حلقوں میں ایک علامتی مگر توجہ حاصل کرنے والے اظہار کے طور پر دیکھا گیا۔ اس طرز کے مظاہرے عمومی طور پر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عوامی سطح پر معاشی دباؤ اب اعداد و شمار سے نکل کر عملی زندگی میں محسوس کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کے مطابق موجودہ حالات میں روزمرہ ضروریات پوری کرنا اور آمدن کے اندر رہ کر زندگی گزارنا ایک بڑھتا ہوا چیلنج بن چکا ہے۔دوسری جانب معاشی ماہرین کا ایک مؤقف یہ بھی ہے کہ پاکستان کو اس وقت مالیاتی خسارے، درآمدی دباؤ اور عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، جن کے باعث بعض اوقات سخت معاشی فیصلے ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ تاہم ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ ایسے فیصلوں کے ساتھ ساتھ کم آمدن طبقے کے لیے مؤثر سماجی تحفظ اور ہدفی ریلیف
پالیسیوں کی ضرورت بھی بڑھ جاتی ہے تاکہ معاشی دباؤ کا بوجھ متوازن کیا جا سکے۔
احتجاجی قیادت نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، ٹیکس پالیسی پر نظرثانی اور کم آمدن طبقے کے لیے فوری ریلیف اقدامات کیے جائیں تاکہ عوامی مشکلات میں کمی لائی جا سکے، خصوصاً ایسے وقت میں جب تہوار کے موقع پر اخراجات میں اضافہ ایک عام روایت بن چکا ہے۔مجموعی طور پر یہ احتجاج اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان میں معاشی مسائل اب صرف پالیسی سطح تک محدود نہیں رہے بلکہ یہ براہِ راست شہری زندگی، سماجی رویوں اور روزمرہ معمولات پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ‘‘موٹر سائیکل دھکا مارچ’’ اسی بدلتی ہوئی معاشی حقیقت کا ایک علامتی اظہار تھا، جس نے شہری بے چینی کو ایک منفرد انداز میں سامنے لایا۔