وزارت خزانہ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ دسمبر 2024 میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 4.1 فیصد تک آ گئی، جو پچھلے 80 ماہ کی کم ترین سطح ہے۔
مالی سال 2024 کے پہلے چھ ماہ میں مہنگائی کی مجموعی شرح 7.2 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو پچھلے سال کی اسی مدت میں 28.8 فیصد تھی۔ اس میں اہم عوامل میں شرح تبادلہ کی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط اور سپلائی چین کی بہتری شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق، وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کے مختلف اقدامات جیسے کہ غیر قانونی فارن ایکسچینج کمپنیوں، اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائیاں، مہنگائی پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوئیں۔حساس قیمت اشاریہ (SPI) میں جنوری 2025 کے آخری 4 ہفتوں میں مسلسل کمی دیکھی گئی، جس میں 23 جنوری 2025 تک ختم ہونے والے ہفتے میں 0.77 فیصد کمی ہوئی۔ اعداد و شمار کے مطابق، 51 اشیا کی قیمتوں میں سے 12 اشیا کی قیمتوں میں کمی آئی، 14 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور 25 اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
حکومت نے نومبر 2024 میں دالوں اور مرغی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا نوٹس لیا اور اس کے بعد کئی اقدامات کیے، جن کی بدولت دال چنا کی قیمت میں 52.5 روپے، دال ماش کی قیمت میں 37.4 روپے فی کلو کمی آئی۔ مرغی کی قیمت میں 20.1 روپے فی کلو، اور آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت میں 1022.2 روپے کمی ہوئی۔ ان اقدامات کے نتیجے میں ٹماٹر، آلو، دالوں، انڈوں اور ایل پی جی کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی۔وفاقی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق، حکومت کی پالیسیوں اور انتظامی تدابیر نے مہنگائی کے دباؤ کو مؤثر طریقے سے قابو پانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔