نازیہ آصف
اکثر یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ لوگ اکثر حق اور فرض میں فرق کو نہیں پہچانتے ،تو اتنا جان لیجیے کہ جو کام ، زمہ داری یا خدمت آپ کو دی گء ہے، چایے وہ رب تعالیٰ کی طرف سے، معاشرے یا ریاست کی طرف سے ہے، وہ آپ کا فرض ہے،اسی طرح جو کام یا خدمت آپ کے لیے، کسی دوسرے کے ذمے لگایا گیا ہے وہ آپ کا حق ہے۔ جیسے کہ، کسی بچے کے جو کام، جو خدمات والدین کے لیے اللہ پاک نے مختص کیے ہیں وہ والدین کے فرائض میں شامل ہیں۔دوسری طرف ان خدمات کے بدلے میں اللہ پاک نے اولاد پہ کچھ ذمہ داریاں عائد کی ہیں وہ والدین کے حقوق میں شمار ہوتی ہیں اور اولاد کے لیے انھیں مقدور بھر ادا کرنا لازم ہے۔ بحثیت انسان ، بطور عام شہری ،والدین ، اولاد ، کسی ادارے کے ملازم یا مزدور ہم ان حقوق اور فرائض سے بری الذمہ نہیں ہیں اور اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے حقوق ہمیں مکمل طور پہ ملیں تو ہمارے لیے لازم ہے کہ ہم اپنے فرائض مکمل یکسوئی و دیانتداری سے ادا کریں۔
اب آتے ہیں سوشل میڈیا کے حقوق و فرائض پہ۔۔۔ ۔۔ پرانے وقتوں میں جب ہم لکھنا سیکھتے تو باقاعدہ قلم پکڑ کر ہمیں حروف کی موٹائی گولائی تختی پہ لگی لکیر سے کتنا نیچے اور اوپر رکھنا ہے، سب سکھایا جاتا، جب ہم خط لکھنا سیکھتے تو اساتذہ ہمیں باقاعدہ خط لکھنا سکھاتے۔ جس میں درجہ بہ درجہ ادب و آداب اور القابات کا لکھنا لازم ہوتا تھا۔ اسی طرح ادب و آداب ، ریت رواج اور روایات بزرگوں سے بچوں اور نوجوانوں میں دھیرے دھیرے اپنی حدودوقیود کے ساتھ منتقل ہوتی تھیں۔لیکن موجودہ صدی کے آغاز میں ہی سوشل میڈیا کی یلغار نے گیم الٹ دی ہے، کیونکہ یہ وہ واحد چیز ہے جو بزرگوں سے بچوں میں نہیں بلکہ نوجوانوں سے بڑوں میں منتقل ہوئی ہے اور ہمیشہ کی طرح کمپنی نے ایک نیا آئٹم تو لانچ کر دیا مگر اس کو معاشرے میں کس طرح لے کر چلنا ہے یہ سکھانے کے لیے کوء زحمت نہیں کی گئی۔ یوں سمجھ لیجیے کہ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے اس گلوبل ویلیج کے چوپال میں بچوں کو اکٹھا تو کر دیا گیا ہے مگر انھیں کیسے مل کر بیٹھنا ہے، کیسے بات کرنی ہے، کیا کھیلنا یا کیسے کھیلنا ہے یہ بالکل نہیں سکھایا گیا۔جس سے موجودہ صورتحال میں یہ عالم ہو چکا ہے کہ کسی کی پوسٹ سے ہمیں زرا بھی اختلاف ہوا یا پوسٹ ہماری مرضی کے خلاف ہوء یا واقعی کسی تحریر کا متن متنازعہ ہوا ہم اس پہ اپنا ردعمل دینا نہیں جانتے ، پوسٹ پہ کمنٹ کرنا، یا کمنٹس میں اختلاف یا تکرار کرنا ہمیں نہیں آتا ، ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا یا ہم جان بوجھ کر تحریر پہ کمنٹ کرتے کرتے لکھنے والے کی ذات پہ چلے جاتے ہیں۔پوسٹ پہ کمنٹ کرنا یا رائے دینا اور لکھنے والے کی ذات پہ رائے دینے میں بہت نازک سا فرق ہے، جیسے سمجھنا ضروری ہے۔ مثلا کسی نے اپنے ادارے کی پالیسی پہ تبصرہ لکھ کر اسے سراہنا چاہا ہے ، اسے شاندار چیز کے طور پہ پیش کرنا چاہا ہے اور پڑھنے والوں میں سے کوء ایک دو لوگوں نے اس پالیسی سے نقصان اٹھایا ہے تو وہ فورا جواب دینے آئیں گے اور اگر وہ لکھتے ہیں کہ بھاء جھوٹ کیوں بول ریے ہو ، تم بالکل غلط بات کر ریے ہو ، تو یہ باتیں لکھنے والے کی ذات پہ حملہ ثابت ہوتی ہیں ،رائے دینی ہے تو پالیسی میں نقص پہ دیجیے، اور اگر لکھنے والے نے ثبوتوں کے ساتھ کچھ پیش کیا یے تو اسے جھٹلانے کے لیے بھی اس کے رد و کد پہ ثبوت پیش کرنے چاہییں نہ کہ لکھنے
والے کو ہی آپ جھوٹا لکھ دیجیے۔اسی طرح اگر آپ کسی سیاسی جماعت کے فالور ہیں اور تحریر اس کے خلاف لکھی گء ہے تو سب سے پہلے تحریر کو صبر اور ضبط سے سمجھیے، اس میں جس پوائنٹ سے آپ کو اختلاف ہے اس کے حق میں بات کیجیے نہ کہ لکھنے والے کو گالی دینے لگ جائیے، آپ کے اس رویے سے کیا ہوگا جوابا بھی گالی ملے گی کء لوگ اور ابھی اس کار گناہ میں شامل ہو جائیں گے اور اصل مدعا تو وہیں رہ جائے گا۔یہ نہیں ہے کہ آج سے سالوں یا صدیوں پہلے اختلافات نہیں تھے ،تب بھی اختلاف رائے موجود تھا مگر اس وقت بڑوں کی غلط بات پہ بھی خاموش رہنا تربیت کا حصہ ہوتا تھا۔ محلے بھر کے بڑے بوڑھے کا احترام فرض تھا۔ بچوں کے نیک چال چلن کو ان کے والدین کی پہچان خیال کیا جاتا۔مگر سوشل میڈیا کی اس چوپال میں کوء بڑا چھوٹا یا بزرگ نہیں ہے کسی کی کوء خاندانی پہچان نہیں ہے۔ ہر کوء اپنی پہچان خود بنا رہا ہے۔ہمارے معاشرے میں کبھی چادر اور چار دیواری کی اصطلاح بہت اہم ہوتی تھی ان کی حدود کو پھلانگنا انتہائی گھٹیا فعل تصور کیا جاتا تھا۔ دیوار گرنے پہ گھروں میں رستہ بنانے کو بہت معیوب خیال کیا جاتا مگر اب جب ہم نے سوشل میڈیا پہ آکے چادر اور چار دیواری کا بھرم بھی توڑ دیا ہوا ہے تو پھر بھی دوسروں کے گھروں کا بھرم رکھنا ہم فرض ہے جیسے کسی کی بلااجازت تصویر ویڈیو نہ بنائیں اور سوشل میڈیا پہ شیئر تو بالکل بھی نہیں کریں۔ہر چیز کے تین سو ساٹھ زاویے ہوتے ہیں اور انسانی آنکھ محض چند ایک زاویوں سے ہی چیز کو دیکھ اور پہچان سکتی ہے۔ رائے دیتے وقت یہ ذہن میں رکھیے کہ دوسری طرف بھی کوء انسان ہی ہے بہت ممکن ہے کہ کہ وہ آپ کی طرف والے زاویے کو نہ دیکھ پایا ہو ، اس کی بصارت و بصیرت محدود ہو، تو رائے دیتے وقت اپنے اینگلز یا زاویے کو واضح ضرور کیجیے مگر تم جھوٹ بول رہے ہو، تم مکار ہو، تم بک چکے ہو ، بنا ثبوت کے ایسی باتیں کہنا معاشرے میں ماسوائے خرابی و فساد کے کچھ نہیں کر سکتیں۔ہم زبان سے نکلے لفظ کی تلافی تو شائد کر سکیں مگر ایک وائرل ہو چکی پوسٹ کی تلافی ہم نہیں کر سکتے اس لیے کچھ بھی لکھتے یا کسی بھی قسم کا مواد سوشل میڈیا پہ شیئر کرتے وقت یہ ذہن میں رکھیے کہ یہ عمل اور اس کا اجر بھی آپ کے نامہ ء اعمال میں جمع ہونا یے۔اس لیے اپنے میزان کا کون سا پلڑا بھاری کرنا یے یہ آپ کے اختیار میں ہے۔چونکہ سوشل میڈیا نوجوانوں کا ہتھیار ہے تو اس کے آداب کا خیال رکھنا اور ان کا پرچار کرنا انھیں کا فرض اولین بھی ہے ،اللہ پاک ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین