پنجاب کے 280دیہات میں سیلاب‘لاہور کی کئی آبادیاں ڈوب گئیں‘متاثرین کی موٹر وے پر پناہ

سیلاب سے اموات25  ہوگئیں، جھنگ اور چنیوٹ کو بچانے  کیلئے  رواز برج کے قریب بند میں  شگاف ڈال دیا گیا‘ریلوے لائن کو تین مقامات پر دھماکے سے اڑا دیا 
دریائے چناب سے سیلابی ریلا جھنگ میں داخل، اگلے 48 گھنٹوں میں ملتان پہنچنے کا امکان‘پنجاب میں تباہی مچاتے سیلابی ریلے سندھ کی جانب بڑھنے لگے ، ایمرجنسی نافذ
راوی کے بہا ئومیں کمی، پانی کی سطح بدستور انتہائی اونچی، چناب میں تیزی، ستلج سے ملحقہ گنڈا سنگھ والا میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ‘کرتار پور احاطے سے  پانی نکال دیا گیا

 لاہور‘جھنگ(آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک ) دریائے راوی میں آنے والا سیلابی ریلا قریبی آبادیوں میں داخل ہوگیا ، جس کے باعث متاثرین موٹروے پر پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ بدروپنڈ، تعلق پورہ، مہنوال، چوہنگ، تھم پارک، برج اٹاری اور سادھاں ٹوری سمیت متعدد علاقے زیرِ آب آگئے۔سیلابی صورتحال کے باعث متاثرہ افراد اپنے خاندانوں اور سامان کے ساتھ لاہور۔اسلام آباد موٹروے پر پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ٹھوکر نیاز بیگ سے موٹروے کے نیچے بیشتر آبادیوں میں پانی داخل ہونے کے بعد کئی خاندان رات بھر کھلے آسمان تلے موٹروے پر مقیم رہے۔پنجاب کے تینوں دریائوں میں سیلابی صورتحال برقرار ہے،۔پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے میں 25 افراد جاں بحق ہوئے۔ 9 اضلاع میں 14 لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہوئے۔ 4 لاکھ 67 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا‘ پنجاب میں تباہی مچانے والے سیلابی ریلے سندھ کی طرف بڑھنے لگے ہیں، دریائے سندھ میں گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے، جس کے بعد بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ڈکلیئر کرتے ہوئے ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ایریگیشن حکام نے بتایا کہ پنجاب سے آنے والے بڑے سیلابی ریلے پنجند کے مقام پر یکجا ہوں گے، جس کے بعد وہ دریائے سندھ میں شامل ہو کر گڈو بیراج تک پہنچیں گے‘دریائے چناب کا بڑا ریلا جھنگ میں داخل ہوگیا اور شہر کو بچانے کے لیے 120 سالہ پرانے ریواز پل کے قریب دھماکوں سے 3 شگاف ڈال دیے گئے جبکہ پانی جھنگ چنیوٹ روڈ پر آنے سے سڑک ڈوب گئی، نواحی دیہاتوں سے لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے، سیلابی ریلا جنوبی پنجاب کی جانب بڑھنے لگا، جس کے 24 سے 48 گھنٹوں میں ملتان پہنچنے کا امکان ہے جبکہ شہری آبادی کو بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا پرکٹ لگا نے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔دریائے چناب کا بڑا ریلہ جھنگ میں داخل ہوگیا ہے۔ شہر کو بچانے کے لیے قدیم ترین ریواز پل پر دھماکوں سے تین شگاف ڈال دیے گئے ہیں۔سیلاب سے بچنے کی کوشش کے لیے ریلوے لائن کو تین مقامات پر دھماکے سے اڑا دیا گیا ہے۔این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ  لاہور کے علاقے شاہدرہ میں دریائے راوی کے بہائو میں کمی آئی ہے مگر اب بھی پانی کی سطح انتہائی اونچی ہے۔دریائے چناب کے علاقے مرالہ میں بہا ئوتیز ہے جبکہ ستلج سے ملحقہ گنڈا سنگھ والا میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔علاوہ ازیںکرتار پور احاطے سے پانی نکال دیا گیا، درشن ڈیوڑھی، مرکزی چیک پوائنٹ اور استقبالیہ کیبن روم پانی سے کلیئر کردیا گیا۔