کرائے کے گھروں میں رہنے والے شہریوں کے لیے خبر

کرائے کے گھروں میں رہنے والے شہریوں کے لیے خبر

حکومت نے ملک میں بڑھتے ہوئے ہاؤسنگ بحران کے حل کے لیے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے، کرائے کے گھروں میں رہنے والے شہریوں کے لیے ایک نئی قرض اسکیم کا اعلان کیا ہے جس کے تحت آسان اقساط پر اپنے خوابوں کا گھر حاصل کیا جا سکتا ہے۔

 اس اقدام کو ملک میں رہائشی مسائل کے حل کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
اس اسکیم کی تفصیلات اور حکومتی اقدامات
سرپرست اعلیٰ بلڈر ایسوسی ایشن محسن شیخانی کے مطابق، حکومت نے اپنے گھر کی تعمیر یا خریداری کے لیے ایک کروڑ روپے تک کا قرض فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اسکیم کے پہلے مرحلے میں کم از کم 50 ہزار گھروں کے لیے یہ قرضے جاری کیے جائیں گے، تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری اس سہولت سے استفادہ کر سکیں۔محسن شیخانی نے بتایا کہ شہری 20 لاکھ سے لے کر ایک کروڑ روپے تک کے قرضے حاصل کر سکتے ہیں، اور یہ قرضے 10 سے 20 سال کی مدت کے لیے آسان اقساط پر فراہم کیے جائیں گے۔ اس سے متوسط اور کم آمدنی والے افراد کو اپنے رہائشی خواب کو حقیقت میں بدلنے کا موقع ملے گا، اور وہ بھی آسان شرائط کے ساتھ اپنے گھر کا مالک بن سکیں گے۔
حکومتی ہدایات اور پراسیسنگ کا عمل
حکومت نے بینکوں کو ہدایت دی ہے کہ درخواستوں کی پراسیسنگ 15 دن کے اندر مکمل کی جائے تاکہ شہریوں کو بروقت سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد درخواست دہندگان کو جلد از جلد قرض کی منظوری اور سہولت فراہم کرنا ہے، تاکہ ہاؤسنگ بحران کے خاتمے میں مدد ملے۔
مستقبل کے امکانات اور منصوبے کا دائرہ کار
محسن شیخانی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس وقت تقریباً ایک کروڑ گھروں کی کمی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس اسکیم کا دائرہ کار مستقبل میں مزید بڑھایا جائے گا۔ حکومت کی یہ اسکیم زیادہ سے زیادہ افراد کو اپنی چھت فراہم کرنے کے مقصد سے شروع کی گئی ہے، تاکہ ملک بھر میں رہائشی معیار بہتر بنایا جا سکے اور غریب اور متوسط طبقہ بھی اپنے گھر کا خواب پورا کر سکے۔