پشاور: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اسفندیار ولی کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی کے خلاف دائر ہرجانے کے کیس کی سماعت 10 مئی تک ملتوی کر دی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لیاقت علی کی عدالت میں سماعت کے دوران شوکت یوسفزئی کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔ شوکت یوسفزئی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے اسفندیار ولی کے خلاف کوئی ذاتی بیان نہیں دیا بلکہ ایک صحافی کے سوال کے جواب میں صرف اعظم ہوتی کے ماضی کے بیان کا حوالہ دیا تھا۔درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ شوکت یوسفزئی نے اسفندیار ولی پر امریکا سے ڈالرز کے عوض پختونوں کا سودا کرنے کا سنگین الزام لگایا جو جھوٹ پر مبنی اور کردار کشی کے مترادف ہے۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مزید کارروائی 10 مئی تک ملتوی کر دی۔یاد رہے کہ اسفندیار ولی نے شوکت یوسفزئی کے خلاف ایک ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔