پشاور:وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ مجوزہ معدنیات بل میں صوبے کے اختیارات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا رہا، اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے خدشات و مفروضے بے بنیاد ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ "معدنیات بل" کا بغور مطالعہ کرنے والے افراد کو خود اندازہ ہو جائے گا کہ نہ تو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) اور نہ ہی وفاقی حکومت کو صوبائی معدنی وسائل پر کوئی اختیار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ بل کو نہیں سمجھتے، وہ کسی قانونی ماہر سے رجوع کریں۔علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق کے مفروضوں کی بنیاد پر بیانیہ بنایا جا رہا ہے، جو نہ صرف غیر سنجیدہ ہے بلکہ عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں مائنز اینڈ منرلز کا ریونیو اصلاحات کے بغیر ہی 3.5 ارب روپے سے زائد بڑھایا گیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت معدنی وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔وزیرِ اعلیٰ نے عندیہ دیا کہ اگر بل میں واقعی کسی ترمیم کی ضرورت محسوس ہوئی تو وہ اس پر بھی غور کریں گے، تاہم فی الحال اس میں ایسا کوئی نکتہ شامل نہیں جس سے صوبائی خودمختاری متاثر ہو۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی زمین، وسائل اور اختیار پر کسی قسم کا سودہ بازی نہیں کریں گے، اور عوام کو اعتماد میں لے کر ہی کوئی بھی قانون سازی کی جائے گی۔