پیف کی حیلہ سازیاں

چوہدری افضل
تعلیم کا چرچا ہو تو الفاظ بڑے خوب صورت لگتے ہیں۔مفت تعلیم، معیاری تعلیم، ہر بچے تک تعلیم، روشن مستقبل اور نہ جانے کتنے خواب۔ مگر جب انہی خوابوں کا حساب کتاب شروع ہوتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ خواب دیکھنے والے بچے سے زیادہ اہم شاید وہ خانہ ہے جو کسی سرکاری نظام کے کمپیوٹر میں سبز رنگ کا نشان بناتا ہے۔پیف کا بنیادی تصور یقیناً یہ ہے کہ نجی شعبے کے ذریعے بچوں کو مفت تعلیم کی سہولت فراہم کی جائے اور اسکولوں کو طلبہ کے ریکارڈ اور تصدیق کی بنیاد پر ادائیگی کی جائے۔ پیف کی اپنی معلومات کے مطابق ماہانہ ادائیگی’’ ایس آئی ایس ‘‘ میں درج اور تصدیق شدہ فعال طلبہ کے ریکارڈ سے منسلک ہے۔
بات یہاں تک درست ہے۔ سوال وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں بچہ حقیقی ہو، سکول میں پڑھتا ہو، استاد اسے پڑھا رہا ہو، مگر کاغذی خانوں میں کسی کمی کے باعث وہی بچہ اچانک ’’غیر موزوں‘‘ قرار پانے لگے۔
مثلاً ایک بچہ بیمار ہوگیا۔ بیماری انسان کی زندگی کا حصہ ہے، مگر اگر اس بیماری کے باعث وہ کسی خاص دن سکول نہ پہنچ سکے تو کیا تعلیم کا پورا فلسفہ اس ایک دن کے بخار کے سامنے شکست کھا جائے گا؟پھر کسی گھر میں شادی ہے۔ ہمارے معاشرے میں شادی محض ایک دن کی تقریب نہیں، پورا خاندان کئی دن مصروف رہتا ہے۔ بچہ بھی انسان ہے، مشین نہیں کہ گھر میں خوشی ہو یا کوئی مجبوری، وہ ہر حال میں مخصوص وقت پر سکول پہنچے۔
اور اگر خدانخواستہ کسی گھر میں فوتگی ہوجائے تو بچہ اپنے خاندان کے غم میں شریک ہوگا۔ ایسے موقع پر اگر نظام صرف یہ دیکھے کہ بچہ اس دن سکول میں موجود تھا یا نہیں، تو شاید نظام کو بچے سے زیادہ اپنی فائل کی فکر ہے۔یہاں ایک اور سوال سامنے آتا ہے: ’’ب فارم‘‘ کس نے بنوایا؟پیف کی دستیاب پالیسی میں ’’ب فارم‘‘ اور والدین یا سرپرست کے شناختی کوائف کو طلبہ کے ریکارڈ اور ادائیگی کے عمل سے جوڑا گیا ہے۔ لیکن اگر زمینی سطح پر یہ سوال کھڑا ہو کہ ب فارم والد نے بنوایا ہے یا والدہ نے، اور اسی بنیاد پر ایک حقیقی، زیرِ تعلیم بچے کی ادائیگی متاثر ہوجائے، تو پھر سوال صرف ایک بچے کا نہیں رہتا، سوال پورے نظام کی ترجیحات کا بن جاتا ہے۔ذرا تصور کیجیے، ایک طرف ماں بچے کو پالتی ہے، سکول پہنچاتی ہے، اس کی کتابیں سنبھالتی ہے اور تعلیم کے لیے اپنا حصہ ڈالتی ہے، مگر دوسری طرف سرکاری ریکارڈ کے ایک خانے کی وجہ سے بچے کی تعلیمی حیثیت مشکوک ہوجائے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو ہمیں کاغذ اور حقیقت کے درمیان فاصلہ کم کرنا ہوگا۔ہم چاہتے ہیں کہ سکول میں سو فیصد بچے حاضر ہوں۔ گویا بچے انسان نہیں، حاضری کے فرشتے ہیں، نہ انہیں بخار ہوگا، نہ گھر میں شادی ہوگی، نہ کسی عزیز کا انتقال، نہ کوئی ہنگامی صورتِ حال!اگر سو بچوں کے سکول میں ایک بچہ بیمار ہوجائے تو کیا سکول کی تعلیم ختم ہوگئی؟ اگر ایک گھر میں شادی ہوگئی تو کیا استاد نے پڑھانا چھوڑ دیا؟ اگر کسی گھر میں فوتگی ہوگئی تو کیا سکول کا پورا نظام بھی رک گیا؟۔اصل ضرورت ایک ایسے نظام کی ہے 
جو حاضری کو ضرور دیکھے، مگر انسانی حالات کو بھی سمجھے۔ تصدیق ضرور ہو، مگر تصدیق کا مطلب یہ نہ ہو کہ انسان کو کاغذ کے ایک خانے میں بند کردیا جائے۔سکولوں کے منتظمین اور اساتذہ پہلے ہی محدود وسائل، کم سہولیات اور بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کے درمیان کام کرتے ہیں۔ جب ایک استاد محنت کرکے بچے کو سکول لاتا، والدین کو قائل کرتا، اسے پڑھاتا اور ریکارڈ مکمل کرتا ہے، مگر کسی غیر معمولی صورتِ حال کی وجہ سے ادائیگی کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے تو اس کا اثر صرف مالیات پر نہیں، حوصلے پر بھی پڑتا ہے۔
اور جب بار بار ایسا ہو تو استاد کے دل میں سوال جنم لیتا ہے۔’’اگر میری محنت کا حساب بچے کی حقیقی تعلیم سے نہیں بلکہ چند خانوں کی درستگی سے ہونا ہے تو پھر میں محنت کس کے لیے کروں؟‘‘یہ سوال اہم ہے، کیونکہ تعلیم صرف کتابوں سے نہیں چلتی، استاد کے حوصلے سے بھی چلتی ہے۔پیف ایک بڑا تعلیمی نظام ہے۔ اس کے قواعد، نگرانی اور تصدیق کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ مگر ہر نظام کا اصل حسن یہ ہے کہ وہ اپنے مقصد کو یاد رکھے۔ اگر مقصد بچے کو تعلیم دینا ہے تو قواعد بچے کی تعلیم میں سہولت بنیں، رکاوٹ نہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حقیقی طور پر زیرِ تعلیم بچوں کے لیے بیماری، خاندانی ہنگامی حالات، فوتگی اور دیگر ناگزیر وجوہات کے بارے میں واضح، یکساں اور انسانی بنیادوں پر قابلِ عمل طریق? کار موجود ہو۔ اس سے اسکول غیر ضروری مالی دباؤ سے بچیں گے، اساتذہ کا حوصلہ برقرار رہے گا اور پیف کے اعداد و شمار بھی زیادہ حقیقت پسندانہ ہوں گے۔آخر میں بس اتنی سی گزارش ہے:بچہ بیمار ہوسکتا ہے، نظام بیمار نہیں ہونا چاہیے۔بچے کے گھر میں شادی ہوسکتی ہے، مگر تعلیم کا رشتہ نہیں ٹوٹنا چاہیے۔گھر میں فوتگی ہوسکتی ہے، مگر بچے کا تعلیمی حق فوت نہیں ہونا چاہیے۔اور ب فارم میں سرپرست کا خانہ کچھ بھی ہو، بچے کی کتاب پر اس کا حق برابر ہونا چاہیے۔ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم مفت تعلیم تو دے دیں، مگر اس کے راستے میں اتنی شرائط کھڑی کردیں کہ غریب بچہ اسکول تک پہنچتے پہنچتے ہی ’’غیر حاضر‘‘ ہوجائے۔تعلیم کا مقصد بچے کو شمار کرنا نہیں، سنوارنا ہے۔