دل کی بینائی اور دنیا کا دھوکا

 محمد باقر جاوا
انسانی حیات کے سفر میں ایک بنیادی سوال ہمیشہ سے ذہنوں میں گردش کرتا آیا ہے کہ اصل حقیقت کیا ہے؟ دنیا جسے ہم دیکھتے، چھوتے اور محسوس کرتے ہیں۔۔کیا وہی حیات کی معراج ہے یا اس سے بڑھ کر کوئی ایسی حقیقت بھی موجود ہے جس کی پہچان ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی؟۔۔ حضرت علی کے کلمات اس گہرے سوال کا ایسا جواب ہیں جو انسان کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ آپ نے فرمایا ’’ اندھے کی بینائی کی انتہا دنیا ہے۔ وہ دل کا اندھا اس کے ماسوا کچھ دیکھتا ہی نہیں، لیکن بصیر اور روشن ضمیرشخص دنیا کو بڑی گہری نظر سے دیکھتا ہے اور اسے محدود اورناپائیدار سمجھتا ہے۔اس لیے بصیر شخص دنیا سے کْوچ پر آمادہ ہے، لیکن دل کے اندھے نے اپنی آنکھوں کو اس پر جمارکھا ہے۔بصیر شخص اس سے زیادہ توشہ ساتھ لے لیتا ہے لیکن دل کا اندھا اس سے محروم رہتاہے۔‘‘۔۔ یہ قول اپنے اندر کائنات کے سب سے بڑے المیے اور سب سے بڑی حقیقت کو چھپائے ہوئے ہے۔ جو شخص دل کی آنکھوں سے محروم ہے وہ دنیا کی رنگینیوں، مال و دولت، عیش و عشرت اور وقتی آسائشوں سے آگے کچھ نہیں دیکھ پاتا۔ اس کی بصارت کا دائرہ اتنا تنگ ہے کہ وہ فنا کو بقا سمجھ لیتا ہے اور عارضی کو دائمی۔اس کے مقابل ایک بصیر شخص ہے جو ظاہری آنکھوں سے دیکھنے کے ساتھ ساتھ دل کی آنکھ سے بھی حقیقت کو پہچانتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ دنیا ایک سرائے ہے، ایک عارضی پڑائو ہے جس سے گزرنا ہے۔ اس کی نظر میں دنیا کی حیثیت ایک سایہ یا خواب سے زیادہ کچھ نہیں۔ وہ دنیا کی کشش اور اس کی رنگینیوں کو دیکھتا ضرور ہے مگر انہیں حقیقتِ مطلق نہیں مانتا۔ وہ اپنی نظر کو محدود نہیں رکھتا بلکہ اسے وسیع کرتا ہے تاکہ اس دنیا کے پیچھے چھپی حقیقت کو پا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دنیا کو ناپائیدار سمجھتے ہوئے اس سے کْوچ پر آمادہ رہتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ اصل زندگی وہ ہے جو اس کے بعد آنے والی ہے جہاں اعمال کا حساب اور کردار کی حقیقت سامنے آئے گی۔حضرت علی کے اس قول میں دل کی بینائی اور ظاہری آنکھ کے فرق کو نہایت سادہ مگر نہایت بلیغ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ظاہری آنکھیں دنیا کے رنگ، خوشبو اور خدوخال کو تو دیکھ لیتی ہیں لیکن اگر دل اندھا ہو تو یہ سب کچھ دھوکا بن جاتا ہے۔ دنیا کی چمک دمک انسان کو اس قدر فریب دیتی ہے کہ وہ اپنی اصل منزل کو بھول جاتا ہے۔ دل کا اندھا دولت کے انبار کو کامیابی سمجھتا ہے، اقتدار کی کرسی کو معراج جانتا ہے اور وقتی مسرتوں کو دائمی سکون قرار دیتا ہے۔ لیکن جب حقیقت کا پردہ اٹھتا ہے تو سب خواب و خیال ثابت ہوتا ہے۔بصیر شخص دنیا کے دھوکے میں نہیں آتا۔ وہ اس فانی حیات کو حقیقت سمجھنے کے بجائے اسے ایک امتحان گاہ مانتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ یہاں کی راحتیں عارضی ہیں، یہاں کا سکون ایک سراب ہے، یہاں کا مال متاع وہ 
سامان ہے جو فنا کی آندھی میں بکھر جانا ہے۔ بصیر شخص اپنی نظر کو اس قدر وسیع کرتا ہے کہ وہ نہ صرف دنیا کو دیکھتا ہے بلکہ آخرت کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔ اسی لیے وہ دنیا کی لذتوں میں غرق ہو کر اپنے آپ کو محروم نہیں کرتا بلکہ اس سے آگے دیکھ کر زیادہ سے زیادہ توشہ آخرت اکٹھا کرتا ہے۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دل کی بینائی کیسے پیدا ہوتی ہے اور دل کا اندھا کیوں اس سے محروم رہتا ہے؟ دل کی آنکھ اس وقت کھلتی ہے جب انسان اپنے وجود پر غور کرتا ہے، اپنی حقیقت پر تدبر کرتا ہے اور اس کائنات کے رازوں میں جھانکنے کی جستجو کرتا ہے۔ جو شخص عقل و فکر کو صرف دنیا کے سازوسامان تک محدود رکھتا ہے اس کا دل اندھا رہتا ہے۔ لیکن جو اپنی عقل کو روحانیت، حقیقت اور باطن کی گہرائیوں تک پہنچاتا ہے، اس کے دل کی آنکھ کھلتی ہے۔دنیا کے اکثر انسان دل کے اندھے ہیں۔ وہ دن رات دنیا کے پیچھے بھاگتے ہیں، اپنے آپ کو مال و دولت کمانے، شہرت حاصل کرنے اور عیش و عشرت میں مبتلا رکھنے میں ضائع کر دیتے ہیں۔ ان کے لیے زندگی کی کامیابی کا مطلب یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ دنیا سمیٹ لی جائے۔ لیکن جب زندگی کا سورج ڈھلنے لگتا ہے تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ سب کچھ جمع کرنے کے باوجود خالی ہاتھ جا رہے ہیں۔ یہی محرومی دل کے اندھے کی اصل حقیقت ہے۔دوسری طرف بصیر شخص دنیاوی چیزوں کو بھی نظر انداز نہیں کرتا۔ وہ محنت کرتا ہے، دنیاوی ذمہ داریاں بھی پوری کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ آخرت کا بھی سامان تیار کرتا ہے۔ اس کی نظر صرف دنیاوی کامیابی پر نہیں بلکہ ابدی کامیابی پر ہوتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر دل کی آنکھ کھلی رہے گی تو دنیا بھی آسان ہو جائے گی اور ا
ٓخرت بھی سنور جائے گی۔یہی وہ نکتہ ہے جو حضرت علی کے قول میں پوشیدہ ہے کہ بصیر شخص زیادہ توشہ ساتھ لے لیتا ہے جبکہ دل کا اندھا اس سے محروم رہ جاتا ہے۔ آخرت کا توشہ اعمال صالحہ ہیں، اخلاقی بلندی ہے، دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک ہے اور اپنے رب کی یاد ہے۔ بصیر شخص ان سب کو دنیا کی لذتوں کے ساتھ ساتھ اپنے سفر کا حصہ بنا لیتا ہے۔ لیکن دل کا اندھا محض دنیا کے پیچھے بھاگتا ہے اور جب وہ دنیا کو چھوڑتا ہے تو بالکل خالی ہاتھ ہوتا ہے۔اگر ہم اپنی موجودہ دنیا پر نگاہ ڈالیں تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ انسان کی اکثریت دل کی اندھی ہے۔ لوگ مال و دولت کے پیچھے اندھے ہو کر بھاگ رہے ہیں، اقتدار کے لیے ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں اور دنیاوی فانی خوشیوں کے لیے اپنی روحانی حقیقت کو بھول چکے ہیں۔ یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ دل کی بینائی کے بغیر انسان کتنا کمزور اور کتنا فریب خوردہ ہو جاتا ہے۔حضرت علی کی تعلیمات دراصل انسان کو جھنجھوڑنے اور بیدار کرنے کے لیے ہیں۔ آپ نے واضح کیا کہ اصل بینائی آنکھوں کی نہیں بلکہ دل کی ہے۔ آنکھوں کی بینائی تو ایک اندھے کو بھی عطا کی جا سکتی ہے لیکن دل کی بینائی ایک خاص نعمت ہے جو غور و فکر، معرفت اور حق کی تلاش کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔ دل کا بینا شخص دنیا کو حقیقت کے آئینے میں دیکھتا ہے اور کبھی دھوکے کا شکار نہیں ہوتا۔ وہ جانتا ہے کہ موت ہر شے کو فنا کر دیتی ہے اور جو باقی رہ جاتا ہے وہ انسان کا کردار اور اس کے اعمال ہیں۔لہٰذا ضروری ہے کہ ہم دنیا کو مقصدِ حیات نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک ذریعہ سمجھیں۔ دنیا کو آخرت کی تیاری کے لیے استعمال کریں۔ ہمیں چاہیے کہ دل کی آنکھ کو کھولنے کی کوشش کریں تاکہ دنیا کی حقیقت اور اس کے بعد کی ابدی زندگی واضح ہو سکے۔ حضرت علی کا یہ قول ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ اصل کامیابی وہ ہے جو دل کی بینائی کے ذریعے ملے اور اصل ناکامی وہ ہے جو دل کے اندھے پن میں فنا ہو کر رہ جائے۔انسان اگر اپنی زندگی کے ہر پہلو کو اس نظر سے دیکھے تو نہ صرف دنیاوی سکون حاصل کرے گا بلکہ آخرت میں بھی سرخرو ہوگا۔ دل کی بینائی کے بغیر دنیا کی حقیقت سمجھنا ممکن نہیں، اور دل 
کی آنکھ کے بغیر کوئی بھی حقیقت کی روشنی تک نہیں پہنچ سکتا۔ یہ روشنی وہی ہے جو بصیر شخص کو عطا ہوتی ہے اور یہی روشنی اسے فانی دنیا کے دھوکے سے بچا کر ابدی کامیابی تک لے جاتی ہے۔یہی حضرت علی کے قول کی گہرائی ہے جو ہمیں دعوتِ فکر دیتی ہے کہ ہم اپنے دل کو اندھے پن سے نکال کر بصیرت کی روشنی میں لے آئیں تاکہ دنیا کی حقیقت کو پہچان سکیں اور اپنی اصل منزل، یعنی ابدی کامیابی کو حاصل کر سکیں۔