پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اور حالیہ سفارتی مذاکرات کے حوالے سے اہم معلومات فراہم کرتی ہے۔
تیہران میں اقتصادی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر، پاکستان اور افغانستان کے وزرائے داخلہ کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے مصافحہ بھی کیا۔ اس ملاقات کا مقصد باہمی تعلقات اور تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان افغان مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا خواہشمند ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہر گھر میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں، ویسے ہی قوموں کے مابین بھی مسائل پیدا ہوتے ہیں، لیکن انہیں بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تمام مسائل کا حل بات چیت سے ہی ممکن ہے۔دوسری جانب، حالیہ مذاکرات کی ناکامی کی تفصیلات بھی سامنے آئیں۔ استنبول میں ہونے والے مذاکرات چار روز جاری رہے، لیکن ناکامی سے ہمکنار ہوئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بتایا کہ ان مذاکرات میں قابل عمل حل نکالنا ممکن نہ رہا۔ افغان طالبان نے سرحد پار دہشت گردی روکنے کے حوالے سے شواہد کے باوجود کوئی ضمانت نہیں دی۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔عطا تارڑ نے یہ بھی بتایا کہ افغان وفد نے بار بار اصل مسئلے سے ہٹ کر بات چیت کی اور کلیدی نکات سے انحراف کیا۔ پاکستانی حکام نے کہا کہ انہوں نے جو شواہد پیش کیے، وہ کافی اور ناقابل تردید تھے، اور اصل ایجنڈا پاکستان پر افغان سرزمین سے حملوں کو روکنا تھا۔مجموعی طور پر یہ صورتحال دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی اور مذاکرات کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ پاکستان کا عزم ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا، اور بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے کوششیں جاری رہیں گی۔