عالمی سطح پرہونے والے دہشتگردی کے واقعات میں افغانستان کا کردار کھل کر سامنے آگیا

عالمی سطح پرہونے والے دہشتگردی کے واقعات میں افغانستان کا کردار کھل کر سامنے آگیا

عالمی سطح پر حالیہ دہشت گردی کے واقعات، جن میں افغانستان کا کردار نمایاں ہے، خطے اور دنیا بھر کے امن و امان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔

 افغانستان سے دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے اور ان کی حمایت کے الزامات کے باعث اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری جانب، پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات، امریکی شہروں میں فائرنگ کے واقعات، اور تاجکستان میں چینی ملازمین پر حملے، علاقائی اور عالمی سطح پر عدم استحکام کی علامات ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، افغان طالبان کی حکومت خطے میں دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے، جس سے علاقائی سلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ اس پس منظر میں، بھارت افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے سرگرم ہے، اور حال ہی میں افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے بھارت کا دورہ اور دونوں ممالک کے مابین معاہدے اس سلسلے کی کڑی ہیں، جو جنوبی ایشیا میں بدلتی ہوئی سیاسی اور اقتصادی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

 اسی دوران، پاکستان کے خلاف افغانستان کی بلا اشتعال جارحیت جاری ہے، جس سے خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ مزید برآں، ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، بھارت اور افغانستان اب اپنے سفارتی مشنوں میں تجارتی نمائندے تعینات کریں گے، جو دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ، جنوبی ایشیا میں نئی کشیدگی اور علاقائی عدم استحکام کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ تمام حالات خطے کے امن، استحکام اور ترقی کے لیے ایک بڑے چیلنج کا پیش خیمہ ہیں، جن کا حل تلاش کرنا دنیا کے لیے نہایت اہم ہے۔"