افغانستان میں خواتین پر پابندیاں، عالمی سطح پر مطالبہ سامنے آگیا

افغانستان میں خواتین پر پابندیاں، عالمی سطح پر مطالبہ سامنے آگیا

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کی صدر اور جرمنی کی سابق وزیر خارجہ اینالینا بیربوک نے ہیومن رائٹس کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں خواتین کی ملازمت اور بچیوں کی تعلیم پر پابندیاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

پابندیوں سے انسانی امداد کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔افغانستان میں خواتین کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک صنفی تفریق یا ’جینڈر اپارتھائیڈ‘ کے مترادف ہے۔سخت پالیسیوں کی وجہ سے خواتین کی تعلیم، روزگار اور سماجی زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔انسانی حقوق کے کارکنان عالمی برادری سے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ افغان خواتین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔تجزیہ کاروں کے مطابق، عالمی برادری کے فیصلہ کن اقدامات کے بغیر افغانستان میں خواتین کی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔