چین کے صوبہ گوانگ ڈونگ کے شہر یانگ جیانگ میں پیش آنے والا ایک انوکھا واقعہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک شخص نے موبائل ایپ کے ذریعے 15.8 یوان (تقریباً 200 پاکستانی روپے) کی ادائیگی کر کے ایک فارمیسی سے مانع حمل گولیاں خریدنے کی کوشش کی۔ تاہم، تکنیکی خرابی (سسٹم ایرر) کے باعث یہ لین دین مکمل نہ ہو سکا۔
راز فاش ہونے کا سبب
ادائیگی ناکام ہونے کے بعد فارمیسی کے عملے نے رقم کی تصدیق اور ادائیگی وصول کرنے کے لیے خریدار کے ممبرشپ کارڈ سے منسلک نمبر پر رابطہ کیا۔ بدقسمتی سے وہ نمبر شخص کی بیوی کا تھا۔ جب عملے نے بیوی کو بتایا کہ شوہر کی خریداری کا تعلق مانع حمل ادویات سے ہے تو اس کے خفیہ تعلقات اور بیوفائی کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ گیا۔
شخص کا ردعمل
شوہر نے میڈیا کو بتایا کہ اس ایک غلطی نے نہ صرف اس کی زندگی بلکہ دوسری فیملی کی زندگی بھی برباد کر دی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ اپنی پرائیویسی کی خلاف ورزی پر دکان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا سوچ رہا ہے۔
قانونی پہلو
قانونی ماہر فو جیان نے اس معاملے پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ شخص کا فارمیسی پر پرائیویسی کی خلاف ورزی کا مقدمہ کرنا مشکل ہوگا، کیونکہ دکان کا عملہ رقم کی تصدیق اور ادائیگی کے حوالے سے ضابطے کے مطابق ہی رابطہ کر رہا تھا۔