تیز دھار مانجھا، دھاتی تار، نائلون یا نوکیلے دھاگے کے استعمال پر پابندی کی تجویز ،متعددافسروں کی بسنت منانے کی مخالف
لاہور( کرائم رپورٹر) پنجاب حکومت نے صوبے میں محدود پیمانے پر پتنگ بازی کی اجازت دینے کے لیے ’’پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2025‘‘ تیار کر لیا ہے، جسے وزیرِاعلیٰ مریم نوازشریف کی ہدایت پر گورنر پنجاب کو منظوری کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔ آرڈیننس کی منظوری کے بعد صوبہ بھر میں بسنت 5 سے 15 فروری کے درمیان منانے کا امکان ہے، جبکہ لاہور میں 14 اور 15 فروری کو محدود بسنت کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ اس قانون کے تحت 2001 کا سابقہ آرڈیننس منسوخ کر دیا جائے گا۔مجوزہ آرڈیننس کے مطابق حکومت اور ڈپٹی کمشنر مخصوص دنوں، مقامات اور محدود وقت میں ’’غیر خطرناک مواد‘‘ کے ساتھ پتنگ بازی کی اجازت دے سکیں گے، تاہم اس مواد کی واضح تعریف شامل نہیں کی گئی۔ آرڈیننس میں تیز دھار مانجھا، دھاتی تار، نائلون یا کسی بھی نوکیلے دھاگے کی تیاری، فروخت اور استعمال پر مکمل پابندی تجویز کی گئی ہے۔خلاف ورزی پر 3 سے 7 سال تک قید اور بھاری جرمانے تجویز کیے گئے ہیں، جبکہ بچوں کی خلاف ورزی پر والدین سے جرمانہ وصول کیا جائے گا۔ ہر جرم کو ناقابلِ ضمانت قرار دیا گیا ہے، اور سب انسپکٹر رینک کا افسر بغیر وارنٹ گرفتاری و سرچ کر سکے گا۔ پتنگ سازوں اور کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشنز کی رجسٹریشن لازمی ہوگی، جبکہ خلاف ورزی کی اطلاع دینے والے شہری کو 5 ہزار روپے انعام مل سکے گا۔ آرڈیننس گورنر کی منظوری کے بعد فوری نافذ ہو جائے گا۔دوسری طرف متعدد سرکاری افسروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بسنت منانے کی مخالفت کرتے ہوئیکہا ہے کہ محدود بسنت کی حمایت کوئی دل سے نہیں کرتا، سب صرف اعلیٰ حکام کی خوشنودی اور اپنی سیٹیں بچانے کیلئے ساتھ کھڑے ہیں۔ افسروں نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی ہلاکت ہوئی تو مقدمہ کس پر ہوگا؟ مجوزہ آرڈیننس میں اس کا جواب نہیں۔