وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت ملک میں کنیکٹیویٹی کو بہتر بنانے اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو فروغ دینے کے لئے پرعزم ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار جمعہ کے روز وزارت خزانہ میں آئی ایم ٹی اسپیکٹرم کی نیلامی کے حوالے سے مشاورتی کمیٹی کے اجلاس میں کیا۔اجلاس کی صدارت وزیر خزانہ نے کی، جس میں وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین، چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور وزارت قانون کے سیکریٹریز سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے سینئر افسران شریک ہوئے۔ وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ نے ورچوئلی اجلاس میں شرکت کی۔وزارت خزانہ کے مطابق، اجلاس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں پی ٹی اے کی جانب سے نومبر 2024 میں پی پی آر اے (پاکستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی) قواعد کے تحت امریکی مشاورتی فرم "نیرا" کی خدمات حاصل کرنے کے حوالے سے پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔
نیرا کا مقصد پاکستانی مارکیٹ کا تجزیہ کرنا، متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنا اور اس شعبے میں اصلاحات کے لئے پالیسی سفارشات تیار کرنا ہے۔ یہ سفارشات آئندہ سال اپریل تک اسپیکٹرم نیلامی کے کامیاب انعقاد کے لئے روڈ میپ فراہم کریں گی۔وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اس موقع پر ڈیجیٹل معیشت اور ڈیجیٹل انضمام کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور انقلابی ایپلیکیشنز کے ذریعے معیشت کی تبدیلی اور سماجی و اقتصادی ترقی کے اہداف کو حاصل کرنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں اس اہم منصوبے کے کامیاب نفاذ سے پائیدار ترقیاتی اہداف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔اجلاس میں اسپیکٹرم کی نیلامی کے عمل کو شفاف، منصفانہ اور موثر بنانے پر اتفاق کیا گیا تاکہ اس سے پاکستان کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچ سکے۔