پی ٹی آئی میں تقسیم زیادہ ہوگئی،حکومت کو دوبارہ مذاکرات کیلئے بٹھانا چاہیے:اسد عمر

سیاسی استحکام کے بغیرمعاشی استحکام ایک خواب ہی ہوسکتا ہے، پی ٹی آئی کو قومی سلامتی میٹنگ میں شرکت کرنی چاہیے
اسلام آباد (آئی این پی)سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ حکومت کو سیاسی حل کیلئے پی ٹی آئی کودوبارہ مذاکرات کیلئے بٹھانا چاہیے، سیاسی استحکام کے بغیرمعاشی استحکام ایک خواب ہی ہوسکتا ہے،پی ٹی آئی کو قومی سلامتی میٹنگ میں شرکت کرنی چاہیے،حکومت کو پی ٹی آئی کا عمران خان سے مشاورت کرنے کا مطالبہ ماننا چاہیے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آتا تب تک معاشی استحکام ایک خواب ہی ہوسکتا ہے۔ کے پی اور بلوچستان کے حالات مختلف ہیں ، خیبرپختونخواہ میں ایسی سیاسی جماعتیں ہیں جن کی عوام میں روٹس ہیں۔اس کے برعکس بلوچستان میں صرف اقتدار کی بات ہوتی رہی، وہاں عوام کے ساتھ لیڈرز کا کوئی سیاسی رشتہ نہیں ہے۔ایسی صورتحال نہیں ہے کہ پی ٹی آئی دہشتگردی کو دہشتگردی اور دہشتگردوں کو دہشتگرد نہیں مانتی، پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ دہشتگردی کے مسئلے کا حل افغان طالبان کی معاونت کے بغیر ممکن نہیں۔اسد عمر نے کہا کہ طالبان کو واپس لانے کی پالیسی اس وقت کی سیاسی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی تھی، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر تھی، پارلیمانی میٹنگ میں مسلم لیگ( ن) کی جانب سے ایک آواز بھی افغان جنگجوئوں کوواپس لانے کیخلاف سننے کو نہیں ملی تھی، ایک دو اپوزیشن رہنمائوں نے کہا تھا کہ حکمت عملی پر غور کیا جائے۔اس پالیسی پر عملدرآمد وزیراعظم شہبازشریف کی حکومت میں ہوا تھا۔انہوں نے کہا آئندہ پالیمانی میٹنگ میں تمام جماعتوں کو سوالات اور خدشات کا اظہار کرنے کا موقع دینا چاہیے،پی ٹی آئی کو اجلاس میں بالکل شرکت کرنی چاہیے، پی ٹی آئی کا عمران خان سے مشاورت کرنے کا مطالبہ ماننا چاہیے، اگر عمران خان کہتے ہیں کہ ہمیں شرکت نہیں کرنی چاہیے پھر ان کا غلط فیصلہ ہوگا، لیکن کم ازکم پی ٹی آئی رہنمائوں کو بانی سے ملاقات کرنے کی اجازت ملنی چاہیے۔پی ٹی آئی میں اس وقت تقسیم زیادہ ہوگئی ہے، حکومت کو سیاسی حل کیلئے پی ٹی آئی کودوبارہ مذاکرات کیلئے بٹھانا چاہیے ۔